سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 71
سيرة النبي علي 71 جلد 1 ہوئے۔بھلا اس واقعہ کا عمرو بن ہند کے واقعہ سے مقابلہ تو کر کے دیکھو ہیں تفاوت را از کجا است تا به کجا۔“ صلى الله اس وقت تک تو میں نے آنحضرت رسول کریم علیہ کے اخلاق حسنہ ﷺ کے اخلاق حسنہ کو آپ کے کے متعلق آپ کی بیوی کی گواہی صحابہ کی فدائیت سے ثابت کیا ہے اب ایک اور طریق سے اس امر پر روشنی ڈالتا ہوں۔آدمی کا سب سے زیادہ تعلق اپنی بیوی سے ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس روزانہ بہت سا وقت خرچ کرنا پڑتا ہے اور بہت سی ضروریات میں اس کے ساتھ مشارکت اختیار کرنی پڑتی ہے اس لیے یہ تو ممکن ہے کہ انسان باہر لوگوں کے ساتھ تکلف کے ساتھ نیک اخلاق کے ساتھ پیش آ سکے اور ایک وقت کے لیے اُس گند کو چھپالے جو اُس کے اندر پوشیدہ ہولیکن یہ بات بالکل ناممکن ہے کہ کوئی اپنی برائیوں اور بدخلقیوں کو اپنی بیوی سے پوشیدہ رکھ سکے کیونکہ علاوہ ایک دائمی صحبت اور ہر وقت کے تعلق کے بیوی پر مرد کو کچھ اختیار بھی ہوتا ہے اور اس کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر وہ اپنی فطری بداخلاقی کا اکثر اوقات اس کے سامنے ہے اظہار کر دیتا ہے۔پس انسان کے اخلاق کا بہتر سے بہتر گواہ اس کی بیوی ہوتی جس کا تجربہ دوسرے لوگوں کے تجربہ سے بہت زیادہ صحیح مشاہدات پر مبنی ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق جو گوا ہی حضرت خدیجہ نے دی ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیک اخلاق کو ثابت کرنے کے لیے کافی سے زیادہ ہے اور اس کے بعد کسی زائد شہادت کی ضرورت نہیں رہتی۔حضرت عائشہ وحی کی ابتدا بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ جب پہلی دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی تو آپ بہت گھبرائے اور غار حرا سے گھر کی طرف لوٹے اور آپ کا دل دھڑک رہا تھا۔حضرت خدیجہ کے پاس آ کر آپ نے فرمایا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو جلد کپڑا اوڑھا دو۔جس پر آپ پر کپڑا ڈالا گیا یہاں تک کہ آپ کا کچھ خوف کم ہوا اور آ۔-