سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 56

سيرة النبي علي 56 جلد 1۔یہ کہ قرآن شریف سے اقتباس کی جاوے۔پہلا ما خذ تو بہت ادنی ہے کیونکہ اس میں دوست دشمن کی رائے کی تمیز کرنا ایک مشکل بلکہ محال کام ہے۔دوسرا مأخذ یعنی حدیث سے واقعات کا جمع کرنا زیادہ قابل اعتبار ہے کیونکہ مؤرخین کی طرح محدثین ہر ایک سنی سنائی بات کو نہیں لکھ دیتے بلکہ روایت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک برابر چلاتے ہیں اور پھر روایت کرنے والوں کے چال چلن کو خوب پر کھ کر ان کی روایت نقل کرتے ہیں۔تیسرا طریق قرآن شریف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت لکھنے کا ہے اور یہ سب سے اعلیٰ ، اکمل اور تمام نقصوں سے پاک ہے لیکن یہ کام بہت ذمہ داری کا ہے اس لیے سر دست میں نے پہلے اور تیسرے ماخذ کی بجائے دوسرے ماخذ کو اختیا ر کیا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو کسی وقت قرآن شریف سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت لکھنے کا ارادہ ہے لیکن چونکہ اختصار اور صرف اعلیٰ درجہ کی روایات کا درج کرنا ہی مقصود ہے اس لیے احادیث میں سے بھی میں نے صرف بخاری کو چنا ہے اور یہ مختصر سیرت صرف بخاری جیسی معتبر کتاب سے لی ہے اور اس کے سوا کسی اور حدیث سے مدد نہیں لی۔باوجود اس کے کہ صرف بخاری کی احادیث سے جو اَصَحُ الْكُتُب میں نے یہ سیرت اختیار کی ہے پھر بھی اختصار پر اختصار سے کام لیا ہے اور اس کو صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا ایک باب سمجھنا چاہیے ورنہ اس بحر بے کنار کو عبور کرنا تو کچھ آسان کام نہیں۔چونکہ پیاروں کی ہر ایک بات پیاری ہوتی ہے اور ان کی شکل و شباہت، چال ڈھال اور لباس و خور و نوش کا طریق بھی دلکش اور محبت افزا ہوتا ہے اس لیے ابتدا میں میں انہی باتوں کو بیان کروں گا۔سیرت کے ساتھ اگر صورت اور عادات بھی مل جا دیں تو وہ آدمی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ہے