سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 55

سيرة النبي علي 55 جلد 1 سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم 18 جون 1913 ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے الفضل جاری فرمایا جس میں آپ نے رسول کریم ﷺ کی سیرت پر ہفتہ وار مضامین لکھنے شروع کئے جس کا سلسلہ آپ کی خلافت کے آغاز میں بھی جاری رہا۔ان مضامین کو بعد میں سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے کتابی شکل میں تمہید شائع کیا گیا۔تاریخ کے بڑے بڑے پہلوؤں میں سے ایک بہت بڑا پہلو تاریخ بنانے والوں کا حال بھی ہوتا ہے کہ وہ کس قسم کے لوگ تھے۔اگر تاریخی واقعات ہمیں یہ علم دیتے ہیں کہ فلاں فلاں باتوں کا انجام نیک یا بد نکلتا ہے تو تاریخ کے بنانے والوں کی سیرت ہمیں اس بات کی تعلیم دیتی ہے کہ کس قسم کی سیرت کے لوگوں سے کیسے کیسے واقعات سرزد ہوتے ہیں اس لیے تاریخ اسلام کے باب میں سب سے پہلے میں نے یہی مناسب سمجھا ہے کہ تاریخ اسلام کے بانی کی سیرت بیان کروں کہ جس پر سب مسلمان جان و دل سے فدا ہیں اور جس کی نسبت خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ 1 پس تاریخ اسلام کو پڑھ کر جو نتائج انسان نکال سکتا ہے اور جو جو فوائد اس سے حاصل کر سکتا ہے اس سے کہیں بڑھ کر اس پاک انسان کی سیرت پر غور کر کے نفع اٹھا سکتا ہے۔سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے لکھنے کے مختلف طریق ہیں۔اول تو یہ کہ عام تاریخوں سے لکھی جاوے۔دوسرے یہ کہ احادیث سے جمع کی جاوے۔تیرے