سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page vii
:= iii بانی اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی اور خوبصورت چہرہ لوگوں کو دکھانے کی عملی سعی بھی فرمائی۔صلى الله حضرت مصلح موعود نے 1913ء میں اخبار الفضل جاری فرمایا تو اس میں ایک عنوان سیرۃ النبی عے کے لئے مخصوص فرمایا جس میں انتہائی دلکش انداز میں آپ نے سیرۃ النبی کے مختلف پہلوؤں پر قلم اٹھایا۔آپ کی کتب و تحریرات جو ” انوار العلوم“ کے عنوان سے شائع شدہ ہیں ، آپ کے خطبات جو’ خطبات محمود کے نام سے طبع شدہ ہیں اور آپ کی معرکۃ الآراء تفسیر کبیر کی جلدیں دشمنانِ اسلام کے لئے ننگی تلوار کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہیں۔یہ عشق رسول کی طویل داستان پر مشتمل مواد ہے جو عیسائیوں ، ہندوؤں اور دیگر نادانوں کی طرف سے ناموس رسالت پر ہونے والے حملوں کا فاضلانہ، مدبرانہ حکیمانہ اور انگشت بدنداں کرنے والا جواب ہے۔آپ کو اپنے آقا و مولیٰ سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم سے کس قدر عشق اور محبت تھی اس کا اظہار اس تحریر سے لگا سکتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں :۔نادان انسان ہم پر الزام لگاتا ہے کہ مسیح موعود کو نبی مان کر گویا ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں۔اسے کسی کے دل کا حال کیا معلوم۔اسے اس محبت اور پیار اور عشق کا علم کس طرح ہو جو میرے دل کے ہر گوشہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے۔وہ کیا جانے کہ محمد ﷺ کی محبت میرے اندر کس طرح سرایت کرگئی ہے۔وہ میری جان ہے، میرا دل ہے، میری مراد ہے، میرا مطلوب ہے، اس کی غلامی میرے لئے عزت کا باعث ہے اور اس کی کفش برداری مجھے تخت شاہی سے بڑھ کر معلوم دیتی ہے۔اس کے گھر کی جاروب کشی کے مقابلہ میں بادشاہت ہفت اقلیم بیچ ہے۔وہ خدا تعالیٰ کا پیارا ہے پھر میں کیوں اس سے پیار نہ کروں۔وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے پھر میں اس سے کیوں محبت نہ کروں۔وہ خدا تعالیٰ کا مقرب ہے پھر میں کیوں اس کا قرب نہ تلاش کروں۔میرا حال مسیح موعود