سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 47
سيرة النبي علي 47 جلد 1 کے جھنڈے تلے لائے تو میں نہیں سمجھتا کہ اس میں اعتراض کی کونسی وجہ ہے اور کیوں مذہبی جوش اس بات کا مقتضی ہے کہ فتوحات ملکی کو چھوڑ دیا جائے۔دنیا کو گمراہی اور فساد میں دیکھ کر اور طرح طرح کی بدکاریوں میں مبتلا پا کر اگر ایک نیک دل اور پاک انسان ان کے عیوب کو دور کرنے کے لئے اور ان کی انتظام حکومت کو درست کرنے کے لئے زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لے لے تو اس میں کونسی بات ہے جو مذہبی جوش کے برخلاف ہے۔اگر حکومت اور سلطنت ایک مذہبی آدمی کے لئے مناسب نہیں ہے اور اس کی لائن سے علیحدہ ہے تو موسی سے شام کا خدا نے کیوں وعدہ کیا اور کیوں یہ بتایا کہ جب تک بنی اسرائیل میرے احکام پر چلتے رہیں گے انہیں ان ممالک کی حکومت دی جائے گی۔اور کیوں حضرت داؤد جو مسیحیوں کے مورث اعلیٰ ہیں سالہا سال تک یہودا کے فرمان کے ماتحت بنی اسرائیل پر حکومت کرتے رہے۔اور پھر بنی اسرائیل کی حکومت جانے پر کیوں یرمیاہ اور دانیال اور حز قیل وغیرهم انبیاء بنی اسرائیل رات دن بدرگاه قادر مطلق اس حکومت کی واپسی کے لئے دعائیں کرتے رہے۔اور اگر حکومت کا اپنے ہاتھ میں لا نا بشر طیکہ اشاعت نیکی مقصود ہو مذہبی جوش یا نبوت کے منافی نہیں اور یہ دونوں باتیں متضاد نہیں تو ہمارے آنحضرت لعلیا لیلی کیا الزام ہے۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم نبی کریم اے کی فتوحات کی وجوہات صلى الله ے کے ہاتھ میں حکومت اس لئے نہیں آئی کہ آپ نے اس کی خواہش کی اور اس کے حصول کے لئے کوششیں کیں بلکہ بجبوری آپ کو ایسا کرنا پڑا۔جب تیرہ سال تک اہل مکہ کے مظالم برداشت کرتے کرتے مسلمان تنگ آگئے اور حکم الہی کے ماتحت آپ نے مدینہ منورہ کو ہجرت کی اور پھر بھی اہل مکہ اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے اور وہاں بھی حملے کرنے شروع کئے تو اندفاعی طور سے خود حفاظتی کے لئے آپ نے ان کا مقابلہ کیا اور ان مقابلوں میں