سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page v of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page v

i بسم الله الرحمن الرحيم پیش لفظ آقائے دو جہاں، فخر موجودات ، رحمۃ للعالمین ، حبیب کبریا، احمد مجتبی، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ وجہ تخلیق کائنات تھی۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے عرش معلی سے یہ اعلان فرمایا کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب : 22) کہ تمہارے لئے اللہ کے رسول کی ذات اور سیرت اسوہ حسنہ ہے نیز محبت الہی کے حصول کی شرط اتباع نبوی کے ساتھ مشروط کر دی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے اخلاق عالیہ کی گواہی ان الفاظ میں دی ہے کہ اِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم:6) کہ یقینا تو بلند اخلاق پر فائز ہے۔جس ہستی کے بلندئی اخلاق کی گواہی خدائے ذوالجلال نے دی اور اسے ہمارے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا اس عالی وجود کی سیرت کا بیان یقیناً محبت رسول کی علامت ہوگا کیونکہ آپ کی ذات صفات الہیہ کی مظہر اتم تھی۔آپ نے خود یہ اعلان فرمایا کہ میں اخلاق عالیہ کی تکمیل کی خاطر مبعوث کیا گیا ہوں۔آپ نے مکارم اخلاق کے بہترین نمونے قائم کرنے کا حق ادا فرمایا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور آپ کے حسن و احسان کے تذکرے صحابہ کی سیرت کا نمایاں پہلو تھے اور پھر سیرت رسول کا بیان عاشقان رسول کا خاصہ رہا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق اور امام الزمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آقا کی محبت اور عشق میں ڈوب کر آپ کی سیرت بیان فرمائی اور بر ملا یہ اعلان فرمایا کہ