سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 481
سيرة النبي عمال 481 جلد 1 بد معاملگی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔اس کے متعلق فرمایا وَ يَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ۔یہ جھوٹ کہتے ہیں اللہ پر حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ اس قسم کی تعلیم نہیں دے سکتا۔تو اس قسم کی بدیانتی کو خدا نے ناپسند فرمایا ہے اس لئے کسی مسلمان کے لئے ہرگز جائز نہیں کہ کسی ہندو، عیسائی یا سکھ یا اور کسی مذہب کے انسان کے ساتھ بد دیانتی کرے۔اسی طرح اگر دیگر مذاہب کے لوگ کریں تو آپس میں بہت جلد حقیقی امن اور پورا اتحاد و اتفاق قائم ہو سکتا ہے۔ورنہ جب تک آپس میں ایک دوسرے پر اعتبار نہ ہو اتحاد اور اتفاق کا ہونا ناممکن ہے۔پھر ایک اور بات جو صلح کے لئے ضروری ہے وہ آپس میں مل کر کام کرنا ہے۔ایک تو صلح کے لئے یہ ضروری ہے کہ آپس میں دشمنی اور عداوت نہ ہو اور ایک یہ کہ وہ امور جن میں سب مذاہب والے متفق ہوں ان کے لئے مل کر کام کیا جائے۔اس کے متعلق میں بتاتا ہوں کہ اسلام نے کیا حکم دیا ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے وَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَاءَ فَلَا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ أَوْلِيَاءَ حَتَّى يُهَا جِرُوا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوهُمْ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُم وَلَا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ وَلِيَّا وَلَا نَصِيرًا إِلَّا الَّذِينَ يَصِلُوْنَ إِلَى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيْثَاقُ 10- اس آیت میں فرمایا کہ فلاں فلاں معاملہ میں اس اس طرح کرو۔مگر ان لوگوں سے نہیں جن سے تمہارا معاہدہ ہو۔اس سے ظاہر ہے کہ قرآن نے دوسروں کے ساتھ باوجود اختلافات مذہب کے مل کر کام کرنے کے معاہدے کرنے کی اجازت دی ہے۔اب میں اس کے متعلق رسول کریم ﷺ کا عمل بتاتا ہوں۔آپ جب مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے گئے اُس وقت مدینہ میں یہود اور مشرک دو قو میں تھیں۔رسول کریم ﷺ کے جانے پر مشرک تو آپ پر ایمان لے آئے مگر یہود کے سوائے چند آدمیوں کے باقی آپ کے خلاف ہی رہے۔ان سے رسول یم ﷺ نے ایک معاہدہ کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ یہود اور مسلمان مل کر مدینہ کی