سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 475
سيرة النبي علي 475 جلد 1 کہا اس خدا کی قسم جس نے موسی کو سب نبیوں پر فضیلت دی ہے میں اس قیمت پر نہیں دوں گا۔اس پر مسلمان نے اس کو تھپڑ مارا۔یہودی رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور جا کر شکایت کی۔آپ نے اس شخص کو بلا کر پوچھا تو اس نے کہا میں نے اس لئے تھپڑ مارا ہے کہ اس نے موسی کو سب نبیوں سے افضل کہا ہے۔آپ اس پر سخت ناراض ہوئے اور کہا آئندہ ایسی حرکت مت کرنا 2۔اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ اسلام میں امن کی تعلیم کس قدر زور کے ساتھ دی گئی ہے۔چونکہ دوسروں کو دکھ اور تکلیف پہنچانا بہت سے فسادوں اور جھگڑوں کا موجب ہوتا ہے اس لئے اسلام مسلمانوں کو حکم دیتا ہے نہ کسی کا مال چھینو، نہ کسی سے بد معاملگی کرو، نہ کسی کی عزت وحرمت کو نقصان پہنچاؤ۔یہ ایسی تعلیم ہے کہ اگر تمام لوگ اس پر عمل کریں تو بہت سے فساد رک جائیں۔تیسری بات یہ ہے کہ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک مذہب کے لوگ دوسرے مذہب کے لوگوں کے احساسات کا خیال نہیں رکھتے اور ایسے الفاظ منہ سے نکال دیتے ہیں جو دوسروں کے لئے بڑے دکھ اور تکلیف کا موجب ہوتے ہیں۔یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ لڑائی ہمیشہ مارنے پیٹنے سے ہی نہیں ہوتی بلکہ زبان سے بھی ہوتی ہے۔اور زبان کی وجہ سے جو لڑائی ہوتی ہے وہ بہت ہی خطرناک ہوتی ہے۔اس لئے زبان کے متعلق بہت احتیاط ہونی ضروری ہے۔اس کے متعلق اسلام کا یہ حکم ہے وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوًّا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُوْنَ یعنی اے مسلمانو ! تمہیں ہرگز اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ غیر مذہب والے جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہیں ان کو گالیاں دو۔اگر تم ایسا کرو گے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ بے علمی کی وجہ سے اللہ کو گالیاں دیں گے۔آخر وہ بھی انسان ہیں، ان میں بھی احساس کا مادہ ہے، ان کے دل پتھر کے نہیں ہیں۔پس اگر تم ان کی گالیاں نہیں سننا چاہتے تو تم