سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 474
سيرة النبي علي 474 جلد 1 تعلقات بین الاقوام کے بارہ میں اسلامی تعلیم اور رسول کریم ﷺ کا اسوہ اسلام اور تعلقات بین الاقوام“ کے عنوان سے حضرت مصلح موعود کی ایک تحریر جو که ریویو آف ریلیجنز اکتوبر 1919ء میں شائع ہوئی اس میں آپ نے تعلقات بین الاقوام پر اسلامی تعلیمات اور رسول کریم علیہ کے اسوۂ حسنہ کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرمایا :۔وو صلى الله صلى الله قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا ذلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُم مُّؤْمِنِينَ 1 یعنی اے مسلمانو! جب ملک میں امن قائم ہو تو تمہارا یہ کام نہیں کہ فساد ڈلواتے اور لوگوں کو دکھ دیتے پھرو۔اگر تم مومن ہو تو امن ہی اچھے نتائج پیدا کرنے والی چیز ہے۔پس لوگوں سے نیک سلوک کرو اور اچھا معاملہ کرو کسی کو دکھ اور تکلیف نہ دو۔اس کے متعلق رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں اے مسلمانو ! خدا نے ہرگز حلال نہیں کیا اس امر کو کہ دوسروں کے گھروں میں داخل ہوڈا کے ڈالنے کے لئے یا دکھ دو، نہ اس بات کو حلال کیا ہے کہ دوسروں کے پھل کھاؤ اور ان کی جانوں ، مالوں اور حرمتوں کو حرام کرو تمہارے جو حقوق ان کے ذمہ ہوں وہ لے لو لیکن یہ نہیں کہ ان سے سختی کرو۔صلى الله پھر حدیث میں آتا ہے رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ایک یہودی سودا بیچ رہا تھا۔ایک مسلمان اس کے پاس گیا اور جا کر کہا یہ چیز اس قیمت پر دو گے؟ یہودی نے