سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 472

سيرة النبي علي 472 جلد 1 نے فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ خدا ایک ہے اور میں اس کا رسول ہوں؟ اس نے کہا نہیں۔ہاں میں یہ کہتا ہوں کہ اگر آپ میری جان بخشی کریں تو میں آپ کے مقابلہ میں کبھی لڑنے نہیں آؤں گا۔رسول کریم علیہ نے اس کو چھوڑ دیا۔جب وہ چھوٹ کر آیا تو اپنے قبیلہ میں آ کر کہا کہ میں ایک ایسے انسان کے پاس سے آیا ہوں کہ جس سے بڑھ کر نیک سلوک کرنے والا دنیا میں کوئی نہیں 3۔اس واقعہ سے معلوم ہوسکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ایک ایسے شخص کو چھوڑ دیا جو آپ کی جان لینے کے لئے آیا تھا۔پھر اس نے اسلام قبول کرنے سے بھی انکار کر دیا۔تاہم اسے چھوڑ دیا گیا۔اگر آپ لوگوں کو تلوار کے ذریعہ مسلمان بنایا کرتے تو ایک ایسے شخص کو جس کی زندگی اور موت کا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں تھا کیوں یونہی جانے دیتے۔پھر دیکھو مکہ کے لوگ جنہوں نے رسول کریم ﷺ کو سخت سے سخت تکلیفیں دیں اور مارنے کے منصوبے کئے۔ان پر جب آپ کو قبضہ واقتدار حاصل ہوا تو آپ نے ان سے پوچھا بتاؤ اب تم سے کیا سلوک کیا جائے ؟ انہوں نے کہا وہی سلوک کریں جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔آپ نے فرمایا اچھا میں تم کو معاف کرتا ہوں 4 یہ اور اسی قسم کے اور بہت سے واقعات ہیں جن سے ثابت ہے کہ جبراً کبھی کسی کو مسلمان نہیں کیا گیا۔پس ایک طرف تو قرآن کریم نے یہ تعلیم دی ہے کہ کسی پر اپنا مذہب منوانے کے لئے جبر نہیں کرنا چاہئے۔اور دوسری طرف رسول کریم ﷺ نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ دین کے معاملہ میں کسی پر جبر نہیں ہونا چاہئے۔اس تعلیم پر اگر سب مذاہب کے لوگ قائم رہیں تو بہت سی نزاعوں کا خاتمہ اسی سے ہو جاتا ہے۔“ 66 ریویو آف ریلیجنز 4 ستمبر 1919 ، صفحہ 299 ،300) 1: بخارى كتاب المغازى باب غزوة الرقاع صفحه 700 حدیث نمبر 4135 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية 2 فتح البارى كتاب المغازى باب غزوة ذات الرقاع جلد 8 صفحہ 432 حاشیہ مطبوعہ مصر