سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 471

سيرة النبي علي 471 جلد 1 صلى الله رسول کریم علیہ آزادی مذہب کے علمبردار حضرت مصلح موعود نے ریویو آف ریلیجنز کے ستمبر 1919ء کے شمارہ میں ایک مضمون تحریر فرمایا جس میں لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّینِ کے حوالہ سے رسول کریم ہے کے عملی نمونہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا:۔پھر رسول کریم علیہ کے عمل سے ثابت ہے کہ آپ نے اسلام منوانے کے لئے کبھی کسی پر جبر نہیں کیا۔آج وہ لوگ جو آپ کے حالات سے ناواقف ہیں ضد اور تعصب کی وجہ سے کہتے ہیں کہ آپ نے تلوار کے زور سے اسلام پھیلایا۔مگر وہ جو جانتے ہیں انہیں خوب علم ہے کہ رسول کریم ﷺ کی ساری زندگی ایسی گزری ہے جس میں جبر کا کہیں نام ونشان بھی نہیں۔اس وقت میں آپ کی زندگی کا ایک معمولی واقعہ بیان کرتا ہوں جس سے معلوم ہو گا کہ کس طرح آپ دوسروں کو دین کے معاملہ میں آزادی دیتے اور اسلام منوانے کے لئے کسی قسم کا جبر نہیں کرتے تھے۔ایک دفعہ آپ کہیں سفر پر گئے جب واپس تشریف لائے تو راستہ میں ایک درخت کے نیچے آرام کرنے کے لئے ٹھہر گئے اور اسی جگہ سو گئے۔تلوار آپ کے پاس تھی اسے ایک طرف رکھ دیا۔اس حالت میں ایک اعرابی آیا اس نے آپ کو پہچان لیا اور آپ ہی کی تلوار نکال کر کہا محمد! (ﷺ ) بتاؤ اب میرے ہاتھ سے تمہیں کون بچا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ، اللہ ، اللہ۔یہ آپ نے ایسے پر جلال لہجہ میں کہا کہ وہ گھبرا گیا اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی 1۔آپ نے تلوار اٹھالی اور کہا اب تو بتا تجھے کون بچا سکتا ہے؟ اس نے کہا آپ مجھ سے نیک معاملہ ہی کریں اور نرمی سے پیش آئیں 2۔آپ