سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 464
سيرة النبي علي 464 جلد 1 شرک کی رو سے توحید کی رو کا مقابلہ اس زرد کا مقابلہ کرنے اور رو اس کی بجائے تو حید پھیلانے کے لئے جو انسان اُس زمانہ میں کھڑا ہوا وہ رسول کریم یہ تھے۔گو اُس وقت عرب میں ایسے لوگ تھے جو فردا فردا ایک خدا کو مانتے تھے مگر لوگوں کے سامنے اسے بیان کرنے سے ڈرتے تھے۔ہاں وہ اپنے دل کی بھڑاس شعروں میں نکالتے تھے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں شرک کے خلاف رو موجود تھی مگر ایسی ہی جیسی کہ دریا کے مقابلہ میں درخت کی پتی۔اس لئے وہ شرک کے دریا کو کیا روک سکتی تھی۔پس اُن میں اتنی طاقت نہ تھی کہ شرک کے دریا کو روک سکتے۔لیکن خدا تعالیٰ نے رسول کریم علی کے وجود میں ایسی رو پیدا کی جس نے شرک کا مقابلہ کر کے اسے مٹا دیا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ یا تو یہ اہر چلی ہوئی تھی کہ ہر ایک مذہب والے اپنے مذہب میں شرک داخل کر رہے تھے اور چاہتے تھے کہ ہم اس سے خالی نہ رہیں یا یہ کہ پینتیس کروڑ بتوں کے ماننے والے بھی کہنے لگے کہ ہم بھی تو حید کے قائل ہیں۔پھر وہ قوم جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام مبعوث ہوئے اور جو توحید کے لئے اپنی جان تک قربان کرنے کے لئے تیار تھے اور جنہوں نے توحید کی خاطر اپنی قوم کو ٹکڑے ٹکڑے کرانا منظور کر لیا مگر اسی قوم کو جب ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد اس میں بھی شرک موجود تھا۔رسول کریم ﷺ کی تو حید کی رو کا اثر مگر جب رسول کریم ﷺ کے ذریعہ توحید قائم ہوئی تو آج وہ مشرک لوگ جو اپنی بت پرستی پر بڑا زور دے رہے تھے کہتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں شرک بعد میں داخل ہوا ہے پہلے نہیں تھا۔ہم کہتے ہیں کہ مانا کہ پہلے شرک نہیں تھا لیکن یہ تو بتاؤ کہ شرک کے خلاف تم میں خیال کب سے پیدا ہوا۔رسول کریم ﷺ کی بعثت کے بعد ہی پیدا ہوا۔تو دنیا کو گو ظاہری طور پر نظر نہیں آتا صلى الله