سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 461

سيرة النبي علي 461 جلد 1 صلى الله رسول کریم ﷺ اور روحانی لہریں - حضرت مصلح موعود نے 16 فروری 1919ء کو حضرت میاں چراغ دین صاحب لاہور کے مکان پر اصلاح اعمال کی تلقین“ کے موضوع پر خطاب فرمایا۔اس لیکھر کی صلى الله ابتدا میں رسول کریم علیہ کی سیرت کو روحانی لہروں کی صورت میں بیان فرمایا گیا ہے۔چنانچہ فرمایا:۔دو صلى الله رسول کریم ﷺ کے زمانہ کی لہر اور پھر سب سے آخر اور سب سے صلى الله بڑی لہر رسول کریم مے کے ذریعہ یدا ہوئی۔اُس وقت جبکہ دنیا میں لوگ غافل ہو کر تاریکی میں بھٹک رہے تھے اور سب پر مُردنی چھا گئی تھی رسول کریم ﷺ کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے روحانیت کے دریا میں پُر جوش لہر پیدا کی جو کسی خاص زمانہ اور خاص مقام سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ تمام دنیا کے لئے ہے۔گو یہ اہر ملک عرب میں پیدا ہوئی جو بظاہر رتبہ اور درجہ میں کوئی امتیاز نہ رکھتا تھا مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے پھیلتے پھیلتے تمام دنیا میں پھیل گئی۔یہ تو اس کا ظاہری اثر ہے جو دنیا کو نظر آ رہا ہے اور ہر شخص خواہ وہ کافر ہو یا مومن محسوس کرتا ہے۔یورپ کے مؤرخ بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں اور اسلام کے مؤرخ بھی۔یہودی بھی اس کو مانتے ہیں اور عیسائی بھی۔انبیاء کے ذریعہ پیدا ہونے یہ بات دنیا تسلیم کرے یا نہ کرے کہ حضرت موسی خدا کے نبی تھے لیکن اس میں شک نہیں والی لہروں کا اعتراف کہ کوئی قوم اس سے انکار نہیں کرسکتی کہ