سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 460
سيرة النبي علي 460 جلد 1 رسول کریم علیہ کا اپنے بعد امیر مقرر کرنا عليه کہ حضرت مصلح موعود نے 12 فروری 1919 ء کو اپنے سفر لاہور پر روانگی سے قبل قادیان میں تقریر فرمائی اور رسول کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ کو پیش کر کے امیر مقرر کرنے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔صلى الله رسول کریم ﷺ جب مدینے سے باہر کسی مقام پر تشریف لے جاتے تھے تو مدینے میں اپنے بعد کسی کو امیر مقرر فرما دیتے۔جس کے سپر د مقامی انتظام ہوتا تھا۔رسول کریم ﷺ کی عادت مبارکہ میں یہ بھی تھا کہ آپ ہمیشہ بدل بدل کر آدمی مقرر کیا کرتے تھے اور اس طریق میں بہت سے فوائد ہیں۔اول تو یہ کہ اگر ہمیشہ ایک ہی شخص کو مقرر کیا جائے تو لوگ اس کے متعلق عجیب عجیب خیال اور قیاس خود بخود کر لیتے ہیں۔دوسرے یہ کہ جب بدل بدل کر امیر مقرر کئے جاتے ہیں تو اس طرح ہر ایک میں فرمانبرداری کی عادت پیدا ہوتی ہے۔رسول کریم ہے بعض بڑے بڑے صحابہ پر ایسے لوگوں کو بھی امیر مقرر فرما دیا کرتے تھے جو بظاہر چھوٹے نظر آتے تھے۔مثلاً اسامہ کے ماتحت ابوبکر و عمر جیسوں کو کر دیا 1۔اس میں حکمت یہی تھی کہ لوگوں میں ایک دوسرے کی اطاعت کا مادہ پیدا ہو۔ایک اطاعت تو ایک شخص کی ذات کی وجہ سے ہوتی ہے لیکن ایک اور اطاعت ہے جو خالصہ للہ ہوتی ہے۔جب ایک انسان خدا کے نبی یا خدا کے مقرر کردہ خلیفہ یا کسی خلیفہ کے مقرر کئے ہوئے شخص کی اطاعت کرتا ہے تو دراصل وہی اطاعت خالص اور خدا کے لئے ہوتی ہے۔“ الفضل 18 فروری 1919 ، صفحہ 5،4) 1 تاریخ طبری جلد 2 صفحہ 246 مطبوعہ بیروت 2012ءالطبعة الخامسة