سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 441
سيرة النبي علي 441 جلد 1 رسول کریم علیہ کی آواز نے پوری دنیا کو بیدار کر دیا حضرت مصلح موعود نے 27 دسمبر 1917 ء کو جلسہ سالانہ قادیان میں تقریر فرمائی۔اس میں آپ رسول کریم ﷺ کی با برکت آواز کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔جب عرب کے ریگستان سے محمد ﷺ کی آواز ابتدا میں اٹھی تو کیا اُسی وقت ہندوستان پہنچ گئی تھی ؟ نہیں۔لیکن جب اس میں گونج پیدا ہوئی تو دنیا کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک پہنچ گئی اور خواب غفلت میں سونے والوں کو جگا کر کھڑا کر دیا۔دنیا میں بہت سی قومیں ایسی تھیں جو ہزاروں سال سے غفلت کی نیند میں پڑی سوتی تھیں اور ہزاروں نبی ان کو جگا نہ سکے تھے لیکن محمد اللہ نے ان کو ایسا جگایا کہ پھر سو نہ سکیں۔حتی کہ آپ کی دشمن اور خون کی پیاسی قو میں بھی نہ سوسکیں۔گو انہوں نے آپ کو قبول نہ کیا اور اس نور اور روشنی سے محروم رہیں جو آپ لائے تھے لیکن آپ کی بعثت کے بعد چین سے سونا ان کو بھی نصیب نہ ہوا۔انہیں ایک ایسی آگ لگ گئی جسے وہ کسی طرح بھی بجھا نہ سکیں اور جنہوں نے صبر اور تحمل سے کام لے کر آپ کی آواز کو سنا 66 اور اس کو قبول کیا وہ تو ایسے جاگے کہ دنیا کے جگانے کا موجب ہو گئے۔“ (حقیقۃ الرؤیا صفحہ 3 روز بازار الیکٹرک پریس ہال بازار امرتسر 1918ء)