سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 434

سيرة النبي علي 434 گو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں کعبہ سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی حضرت صاحب نے قصیدہ الہامیہ میں فرمایا ہے۔اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاه دار کا خر کنند دعوى حب پیمبرم جلد 1 خواہ غیر احمدی ایک نبی کے انکار کی وجہ سے کافر ہی ہو گئے ہیں مگر وہ کہتے تو ہیں الله کہ ہما را آنحضرت ﷺ سے تعلق ہے۔جہاں وہ ایک نبی کے منکر ہیں وہ ایک سے پیار کا بھی دعوی کرتے ہیں۔پس سیدوں کو آنحضرت ﷺ سے تعلق نسبی ہے اس لئے جہاں میں آپ لوگوں کو صدقات کی طرف متوجہ کرتا ہوں وہاں یہ بھی بتاتا ہوں کہ میں نہیں چاہتا کہ صدقہ کسی فتویٰ سے سیدوں کے لئے جائز کر دیا جائے۔رسول کریم ﷺ کے ہم پر صلى الله احسانات ہیں اس کے بدلہ میں سیدوں کو ہدیہ دیئے جائیں۔رسول کریم وہ خود بھی (الفضل 21 ، 24 جولائی 1917ء) ہدیہ کھاتے تھے۔“ رسول کریم ﷺ پر اعتراض کے خطرناک نقصان پھر 20 جولائی صلى الله 1917ء کے خطبہ میں رسول کریم ﷺ پر اعتراض کے خطرناک نقصان کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں:۔وو رسول کریم ﷺ نے غزوہ حنین کے بعد بہت سے اموال جو حضور کے پاس پہلی غنیمتوں میں سے بھی جمع تھے مکہ کے نومسلموں کو دلائے۔اس پر انصار میں سے بعض نو جوانوں نے کسی مجلس میں کہہ دیا کہ اب تک خون تو ہماری تلواروں الله ٹپک رہا ہے مگر مال ان لوگوں کو دے دیا گیا جو حق دار نہیں تھے۔جب آنحضرت علی کو معلوم ہوا کہ انصار میں سے بعض نے اس طرح کہا ہے تو حضور نے انصار کو بلوایا اور