سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 433
سيرة النبي علي 433 جلد 1 الله رسول کریم ﷺ کے احسانات کا ایک تقاضا حضرت مصلح موعود 13 جولائی 1917ء کو خطبہ جمعہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔ایک بات اور بھی یاد رکھو ایک جماعت ہے جو صدقہ نہیں کھا سکتی ، غریب ہے ، نادار ہے اُس کی بھی مدد کی صورت نکالنی چاہیے وہ سیدوں کی جماعت ہے۔رسول کریم ﷺ نے اپنی نسل کو صدقہ سے منع فرمایا ہے 1۔بعض نے کہا ہے کہ اب سیدوں کے لئے صدقہ لینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ نادار ہیں۔مگر میرے نزدیک صلى الله درست نہیں کہ جس بات سے رسول کریم ﷺ نے منع فرمایا ہے اُس کو جائز کیا جائے۔صدقہ کے علاوہ اور بھی طریق ہو سکتے ہیں جن سے ان کی مدد ہوسکتی ہے اور اس طرح محبت بھی بڑھ سکتی ہے وہ ہدایا کا طریق ہے۔اگر ایک دوست کا بچہ آتا ہے تو آدمی اُسے کچھ دیتا ہے مگر وہ صدقہ نہیں ہوتا اور اس طرح ان میں محبت بڑھتی ہے۔اسی طرح سید آنحضرت ﷺ کی بیٹی کی اولاد ہیں اب ان کو بھی ہدایا دیئے جائیں اُس صلى الله احسان کے بدلہ میں جو آنحضرت علے کا ہم پر ہے۔آنحضرت علیہ نے ہمیں کفر سے نکالا، ظلمتوں سے باہر لائے ، پس اس فضل کی وجہ سے ہمارا فرض ہے کہ ہم آپ کی لڑکی کی اولاد کے ساتھ ویسا ہی دوستانہ سلوک کریں بلکہ اس سے بڑھ کر کریں جیسا کہ آپ دوسرے دوستوں سے کرتے ہیں۔وہ صدقہ نہیں کھا سکتے اس لئے ہم ان کو بطور ہدایا دیں۔ہم ان کو خدا تعالیٰ کی محبت کے طور پر دے سکتے ہیں۔ان کو آنحضرت ﷺ سے نسبت ہے۔ایک شاعر نے کہا ہے بات تو گندی ہے لیکن ہے صلى الله درست کیونکہ پتہ لگتا ہے کہ نسبتوں کا بھی کہاں تک خیال ہوتا ہے۔