سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 431

سيرة النبي علي 431 جلد 1 صلى الله رسول کریم میہ صفات باری کے مظہر اتم حضرت مصلح موعود 15 جون 1917 ء کو خطبہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔عیسائیوں نے اس حقیقت کو نہ سمجھنے کے سبب سے حضرت مسیح کو خدا اور خدا کا بیٹا کہہ دیا حالانکہ اس وجہ سے اگر یہ درجہ کسی انسان کو دیا جا سکتا تو وہ آنحضرت علی ہوتے کیونکہ آپ پر شیطان کا کوئی اثر نہ ہو سکتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ آپ نے فرمایا میرا شیطان مسلمان ہو گیا ہے 1۔پس یہ تیسرا کمال کا درجہ ہے اور یہاں شیطان کا کوئی داؤ کام نہیں کر سکتا اور وہ کوئی وسوسہ نہیں ڈال سکتا بلکہ خود اس کو ایسے انسان کی فرمانبرداری کرنی پڑتی ہے۔نبی کریم ﷺ خدا نہیں تھے مگر آپ نے صفتِ الوہیت کو اپنے اندر اس قدر لیا کہ خدا تعالیٰ نے بھی کہہ دیا قُلْ يُعِبَادِيَ 2۔کہو اے میرے بندو ! یلان كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي 3 اگر خدا سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔پس رسول کریم ﷺ اس قدر اس صفت میں رنگین ہوئے کہ آپ کے متعلق یہ الفاظ کہہ دیئے گئے۔یہ اسی لئے تھا کہ آپ نے الوہیت کی چادر کو اپنے اوپر لے لیا۔غرض وسواس سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ ذرائع بتائے ہیں۔اول علم حاصل کرنا۔دوسرے فیصلہ کی طاقت پیدا کرنا۔جب یہ دونوں باتیں پیدا ہو جائیں تو الله 66 پھر الوہیت کا پر تو پڑنا شروع ہو جاتا ہے اور اُس وقت وسواس اثر نہیں ڈال سکتے۔“ (الفضل 19 جون 1917 ء ) 1: مسلم كتاب صفات المنافقين واحكامهم باب تحريش الشيطان صفحه 1225 حدیث نمبر 7108 مطبوعہ ریاض 2000 ء الطبعة الثانية