سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 430

سيرة النبي علي 430 جلد 1 b فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ مجھے تو تمہاری کوئی پرواہ نہیں خواہ تم سب کے سب پرے ہٹ جاؤ۔میں تو موحد ہوں اور ایک زندہ خدا کا ماننے والا ہوں۔اُسی نے مجھے یہ رتبہ دیا ہے اور وہی میرے درجہ کو ظاہر کرے گا۔چنانچہ اب جبکہ مسلمانوں نے اپنے ایسے عقائد بنا لئے جن سے آنحضرت ﷺ کی ہتک ہوتی ہے اور آپ کو بالکل چھوڑ دیا تو خدا تعالیٰ نے آسمان سے ایک ایسا مرسل بھیجا جس نے آ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل شان لوگوں کے سامنے رکھ دی۔اب اگر کوئی مقابلہ کرے گا تو اس کا نقصان نہیں ہوگا بلکہ اُسی کا نقصان ہوگا جو مقابلہ پر آئے گا۔فرمایا کہ اگر یہ لوگ تجھ سے پھریں تو کہہ دو کہ میرا سوائے اللہ کے کسی پر بھروسہ نہیں۔وہی ربّ عرش عظیم ہے ، وہ میری صداقت کے پھیلانے کا سامان پیدا کر دے گا۔چنانچہ جب مسلمانوں نے اس عرشِ عظیم پر تو گل کرنے والے کی ہتک کی تو خدا نے ایک مرسل کو بھیجا جو اس کی عظمت وشان کو دنیا پر ظاہر کرے۔اب خدا اپنی فوجوں سے اس کی مدد کرے گا اور دنیا نے اگر قبول نہیں کیا تو خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔اللہ تعالیٰ ہمارے تمام دوستوں اور تمام ان لوگوں کو جو آنحضرت ﷺ کی محبت کا دم بھرتے ہیں اس بات کی سمجھ اور معرفت دے کہ وہ اس عظیم الشان انسان کو پہچانیں اور جانیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا درجہ کیا تھا اور مخالفین کی آنکھیں کھلیں کہ وہ کس درجہ کا انسان تھا جو خدا نے دنیا میں بھیجا تھا۔“ الفضل 15 ، 19 مئی 1917 ء ) 1: التوبة: 128، 129 2: آل عمران: 32 3 مسند احمد بن حنبل صفحہ 1829 حدیث نمبر 25108 مطبوعہ لبنان 2004 ء