سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 426
سيرة النبي علي 426 جلد 1 کرے گا۔تو آپ کی محبت خدا کی محبت ہے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کے حالات کا معلوم ہونا کیسا ضروری ہے۔میں نے جو آیات پڑھی ہیں ان میں آپ کے کمالات کا کچھ حصہ بیان کیا گیا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں رسول کریم ﷺ کا خلق اگر دیکھنا ہو تو قرآن کریم کو دیکھو 3۔جس وقت آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے دنیا کی حالت بدترین تھی۔بحروبر میں خرابی پھیلی ہوئی تھی ، دنیا کی کوئی برائی ایسی نہ تھی جو نہ پائی جاتی تھی۔اگر چہ انسان گردو پیش کے حالات سے بہت متاثر ہوتا ہے اور جس قسم کا نمونہ اپنے سامنے دیکھتا ہے اُسی طرح خود بھی کرنے لگتا ہے لیکن باوجود اس کے کہ آنحضرت ﷺ کے رو برو بدترین نمونہ موجود تھا، تمام عرب برائیوں اور بدکاریوں سے بھرا ہوا تھا، اُس وقت کے عیسائیوں کی حالت خود عیسائی مورخ لکھتے ہیں کہ نہایت خراب ہو چکی تھی ، زرتشتی بگڑے ہوئے تھے ، ہندوستان میں اصنام پرستی اور عناصر پرستی کا زور تھا۔اس تاریکی کے زمانہ میں آنحضرت مے جیسے انسان کا پیدا ہونا کیا کوئی معمولی بات ہے؟ فرمایا لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ لوگو! ذرا سوچو تو سہی کہ یہ رسول تمہارے پاس تم میں سے آیا ہے، تم میں ہی پیدا ہوا تم میں ہی رہا تم میں ہی اس نے دن رات گزارے مگر دیکھو تمہاری صحبت میں رہ کر یہ تم سے متاثر نہ ہوا۔اس کے اعلیٰ اخلاق کو دیکھو۔اس کے پاس نمونہ تو تم تھے اس لئے چاہئے تو یہ تھا کہ یہ تمہارے ایسا ہوتا مگر اس نے اخلاق میں اس قدر ترقی کی کہ خدا نے اس کو رسول بنا کر تمہارے پاس بھیج دیا۔واقعہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات پڑھ کر حیرت آتی ہے۔کیسی ہمت اور کیسا استقلال تھا آپ کا کہ آپ ان میں رہ کر ان سے الگ رہے۔گو بظاہر اس آیت سے آپ کی کوئی فضیلت نہیں معلوم ہوتی کہ اے لوگو! تم میں سے تمہارے پاس رسول بھیجا کوئی غیر نہیں بھیجا گویا اُس قوم کو بتایا گیا کہ تو بڑی خوش قسمت ہے جس میں