سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 397

سيرة النبي علي 397 جلد 1 طور پر نیک سلوک کیا جائے۔اس حکم کے علاوہ اور بھی بہت سے احکام ہیں جن میں رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ایک دفعہ ایک شخص نے رسول کریم مے سے دریافت کیا کہ کوئی ایسا عمل مجھے بتائیں جس سے میں جنت کا صلى اللهم وارث ہو جاؤں۔فرمایا کہ وہ عمل یہ ہے کہ تو خدا کی عبادت کر اور اس کا شریک کسی کو نہ بنا اور نماز پڑھ اور زکوۃ دے اور رشتہ داروں سے نیک سلوک کر2۔ہمسایہ اور شریک سے نیک سلوک کا حکم قرابت داروں کے علاوہ جن کا تعلق انسان کے ساتھ خون کے ذریعہ سے ہوتا ہے ایک اور قسم کے بھی قریبی ہوتے ہیں جن کو بوجہ خونی رشتہ کے تعلق نہیں ہوتا لیکن قرب مکانی کے لحاظ سے وہ بھی قریبی ہوتے ہیں اس لئے اسلام نے ان کو بھی فراموش نہیں کیا۔چنانچہ ان کے متعلق حکم دیا ہے کہ وَاعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَى وَالْمَسْكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ وَ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَا لَّا فَخُوْرَادٍ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ کرو اور والدین کے ساتھ احسان کا معاملہ کرو اور قریبیوں سے بھی احسان کا معاملہ کرو اور یتامیٰ اور مساکین سے اور ہمسایہ سے جو دیوار بدیوار رہتا ہے اور اس سے بھی جو فاصلہ پر ہے احسان کرو یعنی جس کا مکان ساتھ تو نہیں لیکن ایک محلہ میں یا ایک گاؤں میں رہتا ہے یا پاس کے گاؤں میں رہتا ہے اور اس شخص کے ساتھ بھی نیک سلوک کرو جو تمہاری تجارت میں شریک ہے یا ایک جگہ پر تمہارے ساتھ ملازم ہے یا تمہارا رفیق سفر ہے۔یہ وہ تعلیم ہے جو ہمسایہ اور شریک کے متعلق کہ ایک بوجہ مکان کے پاس رہنے کے اور دوسرا بوجہ کسی کام میں اس کا ساتھی ہو جانے کے قریبیوں میں شامل ہو جاتا ہے اسلام نے دی الله ہے۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ مجھے جبریل نے ہمسایہ سے نیک سلوک رکھنے کی۔