سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 396
سيرة النبي علي 396 جلد 1 سیرت کے متفرق پہلو جماعت احمد یہ دہلی نے 1916 ء کو جلسہ سالانہ منعقد کیا۔اس جلسہ کے لئے حضرت مصلح موعود نے اسلام اور دیگر مذاہب“ کے عنوان سے ایک مضمون لکھ کر بھجوایا۔جس میں معاشرے کے مختلف طبقات کے ساتھ حسن سلوک اور برتاؤ کے متعلق اسلامی تعلیم کی حضرت رسول کریم ﷺ کی احادیث کی روشنی میں وضاحت کرتے ہوئے تحریر فرمایا:۔دیگر رشتہ داروں کے ساتھ سلوک ان نہایت ہی قریبی رشتہ داروں کے علاوہ جن کے حقوق اوپر بیان ہوئے دیگر رشتہ داروں کو بھی اسلام نے فراموش نہیں کیا۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاتِ ذَا الْقُرْبى حَقَّهُ 1 یعنی جو تمہارے قریبی اور رشتہ دار ہیں ان کو ان کا حق ادا کرو۔اس حکم کے ذریعہ نہ صرف رشتہ داروں کے ساتھ نیک تعلقات کے قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے بلکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ حقدار ہیں کہ ان کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے اور ان سے نیک سلوک کرنا گویا ان کا حق ادا کرنا ہے۔حق کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ رشتہ داروں کو بہت دفعہ ماں باپ یا خاوند کے نہ ہونے کی وجہ سے اولاد یا بیواؤں کی خبر گیری کرنی پڑتی ہے اور وہ بھی گویا ایک قسم کے ماں باپ ہی ہوتے ہیں کیونکہ ان کو وقت پر ماں باپ کا ہی کام کرنا پڑتا ہے اس لئے فرمایا کہ جب رشتہ داروں کے اوپر یہ حق رکھا گیا ہے کہ ضرورت کے وقت وہ ایک دوسرے کی اولاد کی کفالت کریں تو ان کا حق ہے کہ ان کے ساتھ خاص