سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 392

سيرة النبي علي 392 جلد 1 مدینہ کے یہود کے ساتھ برتاؤ انوار خلافت (فرمودہ دسمبر 1915ء) میں حضرت مصلح موعود رسول کریم ہے کے مدینہ کے یہود سے برتاؤ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بھی خدا نے یہود کو سزا دینے کے لئے ایک تدبیر فرمائی تھی جو یہ تھی کہ جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو آپ نے کفار سے معاہدہ کیا کہ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف کوئی فساد نہ کیا جائے اور مدینہ کی حفاظت میں مل کر کام کریں لیکن باوجود اس معاہدہ کے وہ شرارتوں سے باز صلى الله نہ آتے۔آنحضرت ﷺ ان کو معاف کر دیا کرتے۔لیکن جب حالت بہت خطرناک ہوگئی اور رسول کریم ﷺ پر پتھر گرا کر قتل کرنے کا منصوبہ انہوں نے کیا اور جنگ احزاب کے وقت جبکہ مسلمانوں کی حالت سخت نازک ہو رہی تھی بر خلاف معاہدہ کے کفار سے مل کر مسلمانوں کو ہلاک کرنا چاہا تو ان کے خلاف جنگ کرنے کا حکم ہوا۔صلى لیکن جیسا کہ رسول کریم ﷺ کا طریق تھا آپ غالبا اس جنگ کے بعد بھی ان لوگوں سے نرمی کرتے۔لیکن خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ انہیں سزا ہو اس لئے اس نے ایک تدبیر فرمائی۔آنحضرت ﷺ نے جب ان یہود کو کہا کہ آؤ میں تمہاری شرارت کے متعلق فیصلہ کروں تو انہوں نے کہہ دیا کہ ہم تمہارا فیصلہ نہیں مانتے۔آپ نے فرمایا اچھا بتاؤ تم اس معاملہ میں کس کو منصف مقرر کرتے ہو؟ انہوں نے ایک آدمی کا نام لیا لیکن جس کا انہوں نے نام لیا تھا اسی نے ان کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ ان کے سب قابل جنگ مردوں کو قتل کر دیا جائے 1۔اگر آنحضرت یہ فیصلہ کرتے تو آپ ضرور نرمی فرماتے