سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 388

سيرة النبي علي 388 جلد 1 حضرت عثمان کے خلاف نہیں اٹھے تھے۔کیونکہ گو یہ ملک آپ کے زمانہ میں فتح نہ ہوا لیکن آپ نے اس پر بھی چڑھائی کی تھی جس کا ذکر قرآن شریف کی سورۃ تو بہ میں ان تین صحابہ کا ذکر کرتے ہوئے جو اس سفر میں شامل نہ ہوئے تھے آیا ہے۔پس شام کا اس فتنہ میں شامل نہ ہونا امیر معاویہ کی دانائی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس لئے تھا کہ الله وہاں اسلام کا پیج رسول کریم عملے کے وقت میں بویا گیا اور اس سرزمین میں آپ نے اپنا قدم مبارک ڈالا تھا۔پس خدا تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں میں اس ملک کو بھی شامل کر لیا۔اتنے بڑے فتنہ میں اس قدر صحابہ میں سے صرف تین صحابہ کے شامل ہونے کا پتہ لگتا ہے اور ان کی نسبت بھی ثابت ہے کہ صرف غلط فہمیوں کی وجہ سے شامل ہو گئے تھے اور بعد میں تو بہ کر لی تھی۔تو یہ رسول کریم ﷺ کی ایک ایسی خصوصیت ہے جو کسی اور نبی کو حاصل نہیں ہوئی۔اس لئے جہاں آپ کی فتح کا ذکر آیا ہے وہاں ساتھ ہی استغفار کا حکم بھی آیا ہے جو آپ کو اس طرف متوجہ کرنے کے لئے تھا کہ دیکھنا ہم آپ کو بہت بڑی فتح اور عزت دینی چاہتے ہیں اور بے شمار لوگوں کو آپ کے ساتھ شامل کرنا چاہتے ہیں۔پس یا د رکھو جب تمہارے بہت سے شاگرد ہو جائیں تو تم خدا کے حضور گر جانا اور کہنا کہ الہی ! اب کام انسانی طاقت سے بڑھتا جاتا ہے آپ خود ہی ان نو واردوں کی اصلاح کر دیجئے۔ہم آپ کی دعا قبول کریں گے اور ان کی اصلاح کر دی جائے گی اور ان کی کمزوریوں اور بدیوں کو دور کر کے ان کو پاک کر دیا جائے گا۔لیکن ان سب باتوں کو ملانے سے جہاں ایک طرف یہ اعتراض مٹ جاتا ہے کہ آپ کسی گناہ کے مرتکب نہیں ہوئے وہاں دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت ایک قوم ترقی کرتی اور کثرت سے پھیلتی ہے وہی زمانہ اس کے تنزل اور انحطاط کا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم کو خدا تعالیٰ نے فتح کے ساتھ ہی استغفار کا ارشاد فرمایا ہے۔کیونکہ کسی قوم کے بڑھنے اور ترقی کرنے کا جو وقت ہوتا ہے وہی وقت اس کے تنزل کے اسباب کو بھی صلى الله