سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 387
سيرة النبي علي 387 جلد 1 تو یہ اس کا گناہ نہیں بلکہ ایک کمزوری ہے جو بشریت کی وجہ سے اسے لاحق ہے۔تو رسول کریم ﷺ کا یہ گناہ نہ تھا کہ آپ اس قدر زیادہ لوگوں کو پڑھا نہ سکتے تھے بلکہ خدا تعالیٰ نے ہی آپ کو ایسا بنایا تھا اور آپ کے ساتھ یہ ایسی بات لگی ہوئی تھی جو آپ کی طاقت سے بالا تھی۔اس لئے آپ کو بتایا گیا کہ آپ خدا تعالیٰ کے حضور کثرت طلباء کی وجہ سے جو نقص تعلیم میں ہونا تھا اس کے دور کرنے کے لئے دعا کریں۔پس ان تمام آیات سے پتہ لگتا ہے کہ ان میں رسول کریم ﷺ کے گناہ کا اظہار نہیں ہے بلکہ ایک بشری کمزوری کے بدنتائج سے بچنے کی آپ کو راہ بتائی گئی ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ آپ کے وقت کثرت سے لوگ ایمان لے صلى الله آئے مگر ابتلاؤں اور فتنوں کے وقت ان کا ایمان خراب نہ ہوا اور وہ اس نعمت محروم نہ ہوئے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں جولوگ ایمان لائے تھے آپ کے بعد گوان میں سے بھی کچھ مرتد ہو گئے مگر جھٹ پٹ ہی واپس آگئے اور ان فتنہ و فسادوں میں شامل نہ ہوئے جو اسلام کو تباہ کرنے کے لئے شریروں اور مفسدوں نے بر پاکئے تھے۔چنانچہ حضرت عثمان کے زمانہ میں جو بہت بڑا فساد ہوا اس میں عراق ، مصر ، کوفہ اور بصرہ کے لوگ تو شامل ہو گئے جو آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد ایمان لائے تھے لیکن یمن، حجاز اور نجد کے لوگ شامل نہ ہوئے۔یہ وہ ملک تھے جو آنحضرت ﷺ کے وقت میں فتح ہوئے تھے۔جانتے ہو اس کی کیا وجہ ہے کہ وہ خفیہ منصوبے جو مسلمانوں کی تباہی کا موجب ہوئے ان میں وہ ممالک تو شامل ہو گئے جو آپ کی وفات کے بعد فتح ہوئے مگر وہ ملک شامل نہ ہوئے جو آپ کے زمانہ میں فتح ہوئے تھے؟ اس کی یہی وجہ ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان ملکوں کے لوگوں کی جو آپ کے زمانہ میں اسلام لائے تھے برائیاں اور بدیاں دور کر دی تھیں۔لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ امیر معاویہ کا زور اور طاقت تھی کہ شام کے لوگ اس فتنہ میں شامل صلى الله نہ ہوئے۔لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ بھی آنحضرت علی ہی کی کرامت تھی کہ وہ لوگ