سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 347

سيرة النبي علي 347 جلد 1 الله ( نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالک) اگر اس عقیدہ کو تسلیم کیا جائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ آپ نَعُوذُ بِاللہ دنیا کے لئے ایک عذاب کے طور پر آئے تھے اور جو شخص ایسا خیال کرتا ہے وہ لعنتی اور مردود ہے۔آپ علیہ سب دنیا کے لئے رحمت ہو کر آئے ا ہے۔تھے اور آپ کے آنے سے اللہ تعالیٰ کے فیضان دنیا کے لئے اور بڑھ گئے نہ کہ کم ہو گئے۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ موسوی سلسلہ کے مسیح نے بلا واسطہ حضرت موسی کے فیضان پایا تھا لیکن آنحضرت لے کے آخری خلیفہ نے جو کچھ پایا آپ کے فیضان سے پایا اور پھر بھی مسیح ناصری سے اپنی تمام شان میں بڑھ گیا۔پس آنحضرت ﷺ کا وجود دنیا کے لئے رحمت ہے اور آپ کی اتباع سے انسان ہر قسم کے فیوض حاصل کر سکتا ہے۔آپ ﷺ کا وجود اللہ تعالیٰ کے فیوض کی راہ میں روک نہیں ہوا بلکہ آپ کی دعاؤں نے اللہ تعالیٰ کے جود و کرم کو اور بھی جذب کیا ہے اور پہلے اگر اس کے فضلوں کی پھوار پڑتی تھی تو اب ایک تیز بارش شروع ہو گئی ہے۔پس جو شخص کہتا ہے کہ آپ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو گیا اور آپ نے دنیا کو اس فیضان سے محروم کر دیا ایسا شخص رسول اللہ ﷺ کی ہتک کرتا ہے۔وہ آپ کو اس ٹیلہ کی طرح قرار دیتا ہے جس نے گر کر دریا کا پاٹ بند کر دیا۔یا اس بادشاہ کی طرح قرار دیتا ہے جس کے ماتحت کوئی زبر دست آدمی نہیں۔بادشاہوں کی عزت اسی طرح بڑھتی ہے کہ بڑے بڑے سردار ان کی خدمت کرنے پر آمادہ ہوں اور شہنشاہ کا رتبہ شاہ سے بہت بڑھ کر ہوتا ہے۔پس دنیا ہمیں لاکھ ملامت کرے اور کوتاہ اندیش لوگ ہم پر ہزار اعتراض کریں ہم اس عقیدہ کو ترک نہیں کر سکتے جس میں آنحضرت سے کی شان کا اظہار ہے اور نہ اس عقیدہ کو اختیار کر سکتے ہیں جس میں آپ کی ہتک ہوتی ہے۔ہمارا آقا نہایت زبر دست طاقتیں رکھتا تھا۔وہ ایسا رتبہ رکھتا تھا کہ اس کی قوت قدسیہ سے ایک نبی کا پیدا ہو جانا کچھ بھی بعید نہیں۔اور جسے اس بات میں کچھ شک ہے اس نے درحقیقت خاتم النبین کے کمالات کو سمجھا ہی نہیں۔وہ اپنی صلى الله