سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 344

سيرة النبي علي 344 جلد 1 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان سے ہے۔ہم نے کب انکار کیا۔ہم تو آپ سے بہت زیادہ اس امر کے قائل ہیں اور مسیح موعود کے درجہ کی بلندی کی وجہ صرف یہی مانتے ہیں کہ مسیح موعود آپ کی فرمانبرداری میں سب پہلوں اور پچھلوں سے بڑھ گیا اور آنحضرت ﷺ کی جو معرفت آپ نے پائی اور کسی نے نہ پائی اور یہی تو وجہ ہے کہ آپ کو نبوت کا درجہ ملا اور کسی کو نہ ملا۔“ الله (حقیقۃ النبوۃ حصہ اول صفحہ 165 ، 166 مطبوعہ قادیان 1915ء) اسی مضمون کی مزید تشریح کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں:۔میں ایک دفعہ پھر یہ بات ظاہر کر دینی چاہتا ہوں کہ میرا اور تمام ان احمدیوں کا جو حضرت مسیح موعود کے ساتھ صحیح تعلق رکھتے ہیں اور خود حضرت مسیح موعود کا بھی ہرگز ہرگز یہ مذہب نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی آ سکتا ہے جو قرآن کریم کو منسوخ کرے یا اس کے بعض احکام پر خط نسخ کھینچ دے یا یہ کہ آنحضرت ﷺ کی اطاعت اور فرمانبرداری سے باہر ہو کر کچھ حاصل کر سکے۔بلکہ ہم ایسے شخص کو جو بعد آنحضرت ﷺ کے بلا واسطہ فیض پانے کا دعویٰ کرتا ہے یا بعد قرآن کریم کے نئی شریعت لانے کا مدعی ہے، لعنتی اور کذاب خیال کرتے ہیں۔کیونکہ ہمارے نزدیک آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی اور نبی نہیں سوائے اس کے کہ آپ کے فیض سے فیض یاب ہو اور بعد قرآن کے کوئی اور شریعت نہیں۔نہ پورے طور پر اسے منسوخ کرنے والی اور نہ اس کے کسی حصہ کو منسوخ کرنے والی۔قرآن کریم کا ایک نقطہ یا شععہ بھی کوئی شخص بدل نہیں سکتا اور نہ اس کی زیر زبر میں تغیر کر سکتا ہے چہ جائیکہ اس کے بعض احکام کو بدل دے۔ہمارا یہ ایمان ہے کہ آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر کوئی صاحب کمال نہیں گزرا۔پس کمال کے بعد کسی اور شے کی حاجت نہیں رہتی۔اب جو آئے گا آپ کے کمالات کے اظہار اور اس کے اثبات کے لئے آئے گا نہ کہ آپ سے الگ ہو کر اپنی حکومت جمانے۔جس شخص نے آپ کے نور کو نہ دیکھا وہ اندھا ہے اور الله