سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 324

سيرة النبي علي 324 جلد 1 رسول کریم ع کی حس مزاح حضرت مصلح موعود نے 18 دسمبر 1914ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا :۔انسان کی طبیعت میں ہنسی اور رونا دونوں باتیں رکھی گئی ہیں۔کبھی انسان ہنستا ہے اور کبھی روتا ہے۔مزاح بھی بنسی کا ایک طریق ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بنی تو ہم بھی کر لیتے ہیں مگر اس میں جھوٹ نہیں ہوتا۔ایک دفعہ آپ بیٹھے ہوئے تھے آپ کے پاس ایک بڑھیا آئی۔اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں کیا جنت میں جاؤں گی؟ آپ نے فرمایا بڑھیا تو کوئی جنت میں نہیں جائے گی۔وہ یہ سن کر رو پڑی۔آپ نے کی فرمایا کہ میرا یہ مطلب نہیں تھا کہ دنیا میں جو بوڑھے ہیں وہ جنت میں نہیں جائیں گے بلکہ یہ تھا کہ جنت میں سارے جوان ہو کر جائیں گے 1۔ایک دفعہ آپ کھجوریں کھا رہے تھے اور صحابہ بھی ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔آپ نے اشارہ فرمایا کہ گٹھلیاں حضرت علیؓ کے آگے رکھتے جاؤ۔جب کھا چکے تو آپ نے حضرت علی کو فرمایا کہ تمہارے آگے سب سے زیادہ گٹھلیاں ہیں کیا تم نے سب سے زیادہ کھجوریں کھائی ہیں؟ حضرت علیؓ نے کہا کہ میں گٹھلیاں پھینکتا گیا ہوں۔جس کا مطلب یہ تھا کہ جن کے آگے گٹھلیاں نہیں وہ ان کو بھی کھا گئے ہیں۔ایک دفعہ ایک صحابی کھڑا تھا۔آنحضرت ﷺ نے پیچھے سے آکر اس کی آنکھیں بند کر لیں۔اس صحابی نے اپنے ماتھا سے آپ کے نرم اور ملائم ہاتھوں کو پہچان لیا اور وہ آپ کے کپڑوں سے اپنے کپڑے ملنے لگ گیا۔آپ نے سمجھ لیا کہ اس نے پہچان لیا ہے۔فرمایا کہ کیا کوئی اس کو مول لیتا ہے؟ اس نے کہا کہ مجھے کون مول لے سکتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے