سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 313
سيرة النبي علي 313 جلد 1 صلى الله اس موقع پر ایک خندق کھودی گئی جو کہ سلمان فارسی کے بتلانے پر نبی کریم می نے حکم دیا کہ خندق کھودی جائے۔اس کے پھر ٹکڑے تقسیم کر دیئے گئے کہ فلاں ٹکڑے پر فلاں فلاں آدمی کام کریں اور فلاں پر فلاں۔جو ٹکڑا سلمان اور ان کے صل الله ساتھیوں کے سپرد تھا اس میں ایک بڑا پتھر نکلا جسے وہ توڑ نہ سکے تو نبی کریم ﷺ کو عرض کیا۔تو آپ نے فرمایا کہ لاؤ کدال مجھے دو میں تو ڑتا ہوں۔آپ نے پھر اس پر ایک زور سے کدال ماری۔یہ قاعدہ ہے کہ لوہا اور پھر ٹکرائیں تو ان میں سے آگ نکلتی ہے تو اُس پتھر میں سے ایک آگ نکلی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیصر کا ملک فتح ہو گیا۔پھر کدال ماری تو دوبارہ آگ نکلنے پر فرمایا کہ کسری کا ملک فتح ہو گیا۔پھر آپ نے زور سے تکبیریں کہیں۔منافق ہنتے تھے اور کہتے تھے کہ کھانے اور پہننے کو کچھ ملتا نہیں ہے اور رہنے کی جھونپڑیاں تک بھی میسر نہیں ہیں اور خوا ہیں ملکوں کی۔صحابہ نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ آپ تکبیریں کیوں کہتے تھے؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے کسری و قیصر کے ملک دکھائے گئے ہیں کہ وہ فتح ہو گئے ہیں 2۔اس مصیبت میں رحمت کا نمونہ اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا اور اس مشکل میں آئندہ راحت بتلا دی۔“ ( الفضل 25 مارچ 1914ء ) 1 سیرت ابن ہشام جلد 2 صفحہ 1018 ، 1019 زیر عنوان ارسل الرسول حذيفة ليتعرف ماحل بالمشركين مطبوعہ دمشق 2005 ء 2 زرقانی جلد 2 صفحہ 109 مطبع الازهرية المصرية 1329هـ