سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 307
سيرة النبي علي 307 جلد 1 رسول کریم عه بطور خاتم النبيين ا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے 30 نومبر 1913 بمقام ملتان ایک جلسے میں تقریر فرمائی جس میں رسول کریم ﷺ کی افضلیت کو بایں الفاظ بیان فرمایا:۔ہر ایک قوم یا ملک جس کی طرف کوئی نبی اور نذیر آیا وہ اسی قوم اور ملک کی حیثیت کے مطابق آیا مگر آنحضرت علی ساری قوموں اور سارے ملکوں کے واسطے آئے اسی سے آپ کی شان دوسروں کے مقابلہ میں نمایاں ہے۔آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک تمام قو میں بگڑی ہوئی تھیں۔اخلاق نہایت گرے ہوئے تھے۔یورپ اور ایشیا کے مؤرخوں نے اس بات کو قبول کیا ہے کہ سارا جہاں گری ہوئی حالت میں تھا۔ایسے مریض کے علاج کے واسطے آنحضرت عے پہنچے تھے مگر مرض نہایت سخت تھا اس واسطے طبیب بھی سب سے اعلیٰ بھیجا گیا۔آنحضرت ﷺ کی شان اور عظمت پر نگاہ رکھنے سے ہم اپنے تمام اختلافات کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ہر ایک امر کو حضرت ﷺ کے سامنے رکھ دیا جائے۔اگر وہ امر ایسا ہے جس سے آنحضرت عی کی تعظیم و تکریم ہوتی ہے تو ہم اسے خوشی سے مان لیں گے اور قبول کر لیں گے۔اور اگر اس صلى الله امر سے آنحضرت ﷺ کی ہتک ظاہر ہوتی ہے تو ہم اسے چھوڑ دیں گے اور اس سے نفرت کریں گے۔اسی محک پر مسلمان آپس کے تمام جھگڑے آسانی سے طے کر سکتے ہیں۔اس اصل کو مدنظر رکھ کر اول اس امر پر غور کرو کہ کیا آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کے آنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ جب باغ لگایا گیا تو اس کے محافظ بھی ہونے چاہئیں مگر آنحضرت ﷺ کے باغ کے پاسبان کون ہوں؟ کیا مولوی لوگ جو