سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 14
سيرة النبي علي 14 جلد 1 صلى الله واقعہ جس میں آنحضرت ﷺ پر پتھر برسائے گئے اور آپ کا جسم مبارک لہولہان ہو گیا اور آپ کے پیچھے شریر اور بدمعاش آپ کو دکھ دینے کے لئے لگائے گئے ان تکالیف کی جو اُس وقت کے بدمعاشوں کے ہاتھوں آپ کو پہنچیں ایک کھلی مثال ہے۔اس کے علاوہ وہ تکالیف جو آپ کے صحابہ کو اس راہ میں پیش آئیں ایک سخت سے سخت دل والے انسان کو کنیا دینے کے لئے کافی ہیں۔ان کو بیٹا گیا اور لوٹا گیا اور بے عزت و بے حرمت کیا گیا اور ہر قسم کے عذاب دیئے گئے۔صرف اس لئے کہ انہوں نے اسلام کو اختیار کیا تھا اور اس کے پھیلانے کے لئے اپنی جانیں بیچ دی تھیں۔وہ قتل کئے گئے ، اپنے گھر بار سے نکالے گئے اور وطن سے بے وطن ہوئے ، ان کے بچے اور ان کی بیویاں ان کی آنکھوں کے سامنے بے رحمی سے ماردی گئیں۔اور یہ سب صلى الله کچھ اس لئے ہوا کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے ہاتھ پر اس بات کا اقرار کیا کہ ہم خواہ کچھ ہو دنیا میں اسلام کی پاک تعلیم کو پھیلائیں گے۔چنانچہ قرآن شریف میں آتا ہے کہ وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ إِلَّا اَنْ يُؤْمِنُوا بِاللهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ 1 یعنی ان سے دشمنی نہیں کی گئی مگر اس لئے کہ وہ خدائے عزیز وحمید پر ایمان لائے یعنی انہوں نے اسلام کی پیروی کی۔اور احادیث سے ثابت ہے کہ ایک دفعہ کفار مکہ نے آپس میں مشورہ کر کے نبی کریم ﷺ کو کہلا بھیجا کہ ہم آپ کی ہر ایک بات کو ماننے کے لئے تیار ہیں مگر ہمارے بتوں کی برائی نہ کی جائے اور اس معاملہ میں خاموشی اختیار کی جائے۔مگر اس کا جواب نبی کریم ﷺ نے یہی دیا کہ دنیا کی کوئی خواہش یا لالچ مجھے تبلیغ اسلام سے نہیں روک سکتی۔پس یہ تمام تکلیفیں جو نبی کریم ﷺ یا صحابہ کو دی گئی تھیں ان کی اصل غرض یہی تھی کہ ان کو اسلام کی تبلیغ سے روکا جائے اور دین سے ہٹا کر دنیا کی طرف متوجہ کیا جائے۔“ تفخیذ الاذہان جولائی 1909 ، صفحہ 220،219) - 1: البروج : 9 الله