سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 276

سيرة النبي علي 276 جلد 1 میں دوسرے کو دیتا جب وہ سیر ہو جاتا تو مجھے پیالہ واپس کر دیتا۔اسی طرح باری باری سب کو پلانا شروع کیا یہاں تک کہ سب پی چکے اور سب سے آخر میں میں نے نبی کریم ﷺ کو پیالہ دیا آپ نے پیالہ لے لیا اور اپنے ہاتھ پر رکھا اور میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا ابو ہریرۃ ! عرض کیا یا رسول اللہ ! حاضر ہوں۔حکم فرمایا اب تو تم اور میں رہ گئے ہیں۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! درست ہے۔فرمایا اچھا تو بیٹھ جاؤ اور پیو۔پس میں بیٹھ گیا اور میں نے دودھ پیا جب پی چکا تو فرمایا کہ اور پیو۔میں نے اور پیا۔پھر فرمایا اور پیو۔اور اسی طرح فرماتے رہے یہاں تک کہ آخر مجھے کہنا پڑا کہ خدا کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے اب تو اس دودھ کے لیے کوئی راستہ نہیں ملتا۔اس پر فرمایا کہ اچھا تو مجھے دو۔میں نے وہ پیالہ آپ کو پکڑا دیا آپ نے خدا تعالیٰ کی تعریف کی اور بسم اللہ پڑھی اور باقی بچا ہوا دودھ پی لیا۔اس حدیث سے رسول کریم ﷺ کی سیرت کے جن متفرق مضامین پر روشنی پڑتی ہے ان کے بیان کرنے کا تو یہ موقع نہیں مگر اس وقت میری غرض اس حدیث کے لانے سے یہ بیان کرنا ہے کہ رسول کریم یہ تکبر سے بالکل خالی تھے اور تکبر آپ کے قریب بھی نہ پھٹکتا تھا۔رسول کریم ﷺہ تو خیر بڑی شان کے آدمی تھے اور جس وقت کا یہ واقعہ ہے اُس وقت دنیاوی شان بھی آپ کو بادشاہانہ حاصل تھی ( کیونکہ حضرت ابو ہریرۃا آپ کی وفات سے صرف تین سال پہلے مسلمان ہوئے تھے پس اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ مسلمان ہوتے ہی آپ کو یہ واقعہ پیش آیا تب بھی فتح خیبر کے بعد کا یہ واقعہ ہے جبکہ رسول کریم ﷺ کی حکومت قائم ہو چکی تھی اور عرب کے کئی قبائل آپ کی اطاعت کا اقرار کر چکے تھے۔) آپ سے دنیاوی حیثیت میں ادنیٰ لوگوں کو بلکہ معمولی معمولی امراء کو دیکھو کہ کیا تکبر اور عجب کے باعث وہ کسی شخص کا جوٹھا پی سکتے ہیں؟ اس آزادی کے زمانہ میں بھی جبکہ تمام بنی نوع انسان کی برابری کے دعوے کیے جاتے ہیں اس شان کو بنانے کے لیے طب کی آڑ تلاش کی جاتی ہے کہ