سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 275
سيرة النبي علي 275 جلد 1 پہچان لیا پھر فرمایا ابو ہریرۃ! میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! حاضر ہوں! ارشاد فرمائیے۔فرمایا میرے ساتھ چلے آؤ۔پس میں آپ کے پیچھے چل پڑا۔آپ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور میرے لیے اجازت مانگی پھر مجھ کو اندر آنے کی اجازت دی۔پھر آپ اندر کمرہ میں تشریف لے گئے اور ایک دودھ کا پیالہ رکھا پایا۔آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟ اندر سے جواب ملا فلاں مرد یا فلاں عورت ( حضرت ابو ہر میرا کو یاد نہیں رہا کہ مرد کہا یا عورت ) نے حضور کے لیے ہدیہ بھیجا ہے اس پر مجھے آواز دی۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! حاضر ہوں۔فرمایا اہل صفہ کے پاس جاؤ اور ان کو میرے پاس بلا لاؤ۔ابو ہریرۃ فرماتے ہیں کہ اہل صفہ اسلام کے مہمان تھے جن کے نہ تو کوئی رشتہ دار تھے جن کے پاس رہتے نہ ان کے پاس مال تھا کہ اس پر گزارہ کرتے اور نہ کسی شخص کے ذمہ ان کا خرچ تھا۔جب نبی کریم ہے کے پاس صدقہ آتا تو آپ ان کی طرف بھیج دیتے اور اس میں سے خود کچھ نہ کھاتے۔اور جب آپ کے پاس کوئی ہدیہ آتا تو آپ ان کو بلا بھیجتے اور ہدیہ سے خود بھی کھاتے اور ان کو بھی اپنے ساتھ شریک فرماتے۔حضرت ابو ہریرۃ فرماتے ہیں کہ یہ بات مجھے اچھی نہ لگی اور مجھے خیال گزرا کہ یہ دودھ اصحاب الصفہ میں کیونکر تقسیم ہو گا۔میں زیادہ مستحق تھا کہ اس دودھ کو پیتا اور قوت حاصل کرتا ، جب وہ لوگ آ جائیں گے تو آپ مجھے حکم فرما دیں گے اور مجھے اپنے ہاتھ سے ان کو تقسیم کرنا پڑے گا اور غالب گمان یہ ہے کہ میرے لیے اس میں سے کچھ نہ بچے گا لیکن خدا و رسول کی اطاعت سے کوئی چارہ نہ تھا پس میں ان لوگوں کے پاس آیا اور ان کو بلایا۔وہ آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔آنحضرت ﷺ نے ان کو اجازت دی پس وہ اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا ابو ہریرۃ ! میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! حاضر ہوں۔فرمایا یہ پیالہ لو اور ان کو پلاؤ۔میں نے پیالہ لیا اور اس طرح تقسیم کرنا شروع کیا کہ پہلے ایک آدمی کو دیتا جب وہ پی لیتا اور سیر ہو جاتا تو مجھے پیالہ واپس کر دیتا پھر