سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 247

سيرة النبي علي 247 جلد 1 ہمارے پاس کچھ ہے ہی نہیں۔پس فرمایا کہ تمہیں یہ بھی معلوم ہو جاتا کہ میں بخیل نہیں ہوں اور یہ بھی کہ جھوٹا نہیں ہوں کہ جھوٹ بول کر سب مال یا اس کا بعض حصہ اپنے لیے بچالوں۔اور نہ مجھے بُزدل پاتے۔یعنی میرا تمہیں مال دینا اس وجہ سے نہ ہوتا کہ میں تم لوگوں سے ڈر جاتا کہ کہیں مجھے نقصان نہ پہنچاؤ بلکہ میں جو مال دیتا دل کی خوشی سے دیتا۔شاید کوئی شخص کہے کہ آپ کے اتنا کہہ دینے سے کیا بنتا ہے کہ اگر میرے پاس ہوتا تو میں دے دیتا۔کیا معلوم ہے کہ آپ اُس وقت دیتے یا نہ دیتے ؟ مگر یا د رکھنا چاہیے کہ ہر خن وقتے و ہر نکتہ مقامے دارد۔میں اس جگہ یہ بتا رہا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کا حمل کیسا تھا اور کس طرح آپ نا پسند اور مکروہ باتیں سن کر نرمی اور ملائمت سے جواب دیتے تھے۔اور خفگی اور ناراضگی کا اظہار قطعاً نہ فرماتے بلکہ جہاں تک ممکن ہوتا معترض کو کوئی نیک بات بتا کر خاموش فرما دیتے۔آپ کی سخاوت کا ذکر تو دوسری جگہ ہو گا۔اور اگر کوئی بہت مُصر ہو تو میں آپ کے تحمل کی ایسی مثال بھی جس میں ایک طرف آپ نے تحمل فرمایا ہے اور دوسری طرف سخاوت کا اظہار فرمایا ہے دے سکتا ہوں اور وہ بھی صحیح بخاری سے ہی۔اور وہ یہ کہ انس بن مالک بیان فرماتے ہیں کہ كُنتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيْظُ الْحَاشِيَةِ فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَذَبَهُ جَذْبَةً شَدِيْدَةً حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَثْرَتْ بِهِ حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَذْبِهِ ثُمَّ قَالَ مُرُ لِى مِنْ مَالِ اللهِ الَّذِي عِنْدَكَ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَضَحِكَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءِ 96 یعنی میں ایک دفعہ آنحضرت علی کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ نے ایک نجران کی بنی ہوئی چادر اوڑھی ہوئی تھی جس کے کنارے بہت موٹے تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی آپ کے قریب آیا اور آپ کو بڑی سختی سے کھینچنے لگا۔یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ اس کے سختی سے کھینچنے کی وجہ سے چادر کی رگڑ کے