سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 228

سيرة النبي علي 228 جلد 1 رنگ دے دیا گیا تھا۔پس آپ کا اس تعریف سے انکار کرنا دوسرے لوگوں سے بالکل ممتاز ہے اور آپ کے نیک نمونہ سے کسی اور انسان کا نمونہ خواہ وہ انبیاء میں سے ہی کیوں نہ ہو قطعاً نہیں مل سکتا۔اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کس طرح حریت پیدا کرنی چاہتے تھے۔اس قسم کے خیالات اگر پھیلائے جاتے اور آپ ان کے پھیلائے جانے کی اجازت دے دیتے تو مسلمانوں میں شرک ضرور پھیل جاتا مگر ہمارا رسول تو شرک کا نہایت خطرناک دشمن تھا وہ کب اس بات کو پسند فرما سکتا تھا کہ ایسی باتیں مشہور کی جائیں جو واقعات کے خلاف ہیں اور جن سے دنیا میں شرک پھیلتا ہے۔پس اس نے جو نہی ایسے کلمات سنے کہ جن سے شرک کی بُو آتی تھی فوراً ان سے روک دیا اور اس طرح بنی نوع انسان کو ذہنی غلامی سے بچالیا اور حریت کے ایک ایسے ارفع سٹیج پر کھڑا کر دیا جہاں غلامی کی زہریلی ہواؤں کا پہنچنا ناممکن ہو جاتا ہے۔اے سوچنے والو! سوچو تو سہی کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی عزت اور رتبہ منظور تھا اور آپ کا سب کام دنیاوی جاہ و جلال حاصل کرنے کے لیے تھا تو آپ کے لیے کیا مناسب تھا۔کیا یہ کہ لوگوں میں اپنی عزت و شان کے بڑھانے کے لیے باتیں مشہور کراتے یا کہ معتقدین کو ایسا کرنے سے روکتے ؟ کیا وہ لوگ جو اپنی خواہش اور آرزو کے ماتحت دنیا میں بڑا بننا چاہتے ہیں اسی طرح کیا کرتے ہیں؟ کیا وہ بغیر امتیاز جھوٹ اور سچ کے اپنی شان دو بالا نہیں کرنی چاہتے ؟ پھر کیا وجہ ہے کہ ایک انسان کو بغیر اس کے اشارہ کے کچھ لوگ وہ شان دینا چاہتے ہیں جو اگر کسی انسان میں پائی جائے تو وہ مربع خلائق بن جائے تو وہ انہیں روکتا ہے اور فوراً کہہ دیتا ہے کہ اور اور باتیں کرو مگر ایسا کلام منہ پر نہ لاؤ جس سے اس وَحْدَهُ لا شَرِیک ذات کی ہتک ہوتی ہو جو سب دنیا کا خالق و مالک ہے اور میری طرف وہ باتیں منسوب نہ کرو جو در حقیقت مجھ میں نہیں پائی جاتیں۔ہاں بتلاؤ تو سہی کہ اس کا کیا سبب ہے؟ کیا یہ نہیں کہ وہ دنیا کی عزتوں کا محتاج نہ تھا بلکہ خدا کی