سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 181
سيرة النبي علي 181 جلد 1 اموال کی تقسیم میں بھی خاص احتیاط سے کام لیتے اور ایسا کوئی موقع نہ آنے دیتے کہ لوگ کہیں کہ آپ نے اموال کو خود اپنے ہی لوگوں میں تقسیم کر دیا۔حضرت علیؓ فرماتے ہیں أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا شَكَتْ مَا تَلَقَّى مِنْ أَثَرِ الرَّحَا فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبِّي فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدُهُ فَوَجَدَتْ عَائِشَةَ فَأَخْبَرَتْهَا فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتُهُ عَائِشَةُ بِمَجِيْءٍ فَاطِمَةَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْتُ لاقُوْمَ فَقَالَ عَلَى مَكَانِكُمَا فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِى وَقَالَ أَلَا أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَانِي أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا تُكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِيْنَ وَتُسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِيْنَ وَتَحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِيْنَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمَا مِنْ خَادِمٍ 71 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا صلى الله نے شکایت کی کہ چکی پینے سے انہیں تکلیف ہوتی ہے۔اسی عرصہ میں آنحضرت عالی کے پاس کچھ غلام آئے۔پس آپ آنحضرت ﷺ کے پاس تشریف لے گئیں لیکن آپ کو گھر پر نہ پایا اس لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنی آمد کی وجہ سے اطلاع دے کر گھر لوٹ آئیں۔جب آنحضرت ﷺے گھر تشریف لائے تو حضرت عائشہ نے جناب کو حضرت فاطمہ کی آمد کی اطلاع دی جس پر آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے۔میں نے آپ کو آتے دیکھ کر چاہا کہ اٹھوں مگر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اپنی اپنی جگہ پر لیٹے رہو۔پھر ہم دونوں کے درمیان میں آ کر بیٹھ گئے یہاں تک کہ آپ کے قدموں کی خنکی میرے سینہ پر محسوس ہونے لگی۔جب آپ بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا کہ کیا میں تمھیں کوئی ایسی بات نہ بتا دوں جو اُس چیز سے جس کا تم نے سوال کیا ہے بہتر ہے اور وہ یہ کہ جب تم اپنے بستروں پر لیٹ جاؤ تو چونتیس دفعہ تکبیر کہو اور تینتیس دفعہ سُبحَانَ اللهِ کہو اور تینتیس دفعہ الْحَمْدُ لِلهِ کہو پس یہ تمہارے لیے خادم سے اچھا ہوگا۔-