سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 167

سيرة النبي علي 167 جلد 1 اظہار کے لیے وہ نمائشیں نہ کیں جو سلطان کیا کرتے ہیں کیونکہ آپ نبی تھے اور نبیوں کے سردار تھے اور بادشاہ ہو کر جو معاملہ آپ نے اپنے اتباع سے کیا وہ اس بات کے ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ آپ کا نفس کیسا پاک تھا اور ہر قسم کے بداثرات سے کیسا منزہ تھا۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ قَالَ الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا قَالَ ثُمَّ أَيُّ قَالَ برُّ الْوَالِدَيْنِ قَالَ ثُمَّ أَى قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي بِهِنَّ رَسُوْلُ اللهِ الا الله ووَلَوِ اسْتَرَدْتُهُ لَزَادَنِي 66 میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کونسا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پیارا ہے؟ فرمایا نماز اپنے وقت پر ادا کرنا۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر کونسا عمل ؟ فرمایا کہ والدین سے نیکی کرنا۔میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! پھر کونسا عمل ہے؟ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں کوشش کرنا۔عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا اور اگر میں آپ سے اور پوچھتا تو آپ اور بتاتے۔بظاہر تو یہ حدیث ایک ظاہر بین کو معمولی معلوم ہوتی ہو گی لیکن غور کرنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ آپ کا وقار کیسا تھا کہ صحابہؓ آپ سے جس قدر سوال کیے جائیں آپ گھبراتے نہ تھے بلکہ جواب دیتے چلے جاتے اور صحابہؓ کو یقین تھا کہ آپ ہمیں ڈانٹیں گے نہیں۔امراء کو ہم دیکھتے ہیں کہ ذرا کسی نے دو دفعہ سوال کیا اور چیں بجبیں ہو گئے۔کیا کسی کی مجال ہے کہ کسی بادشاہ وقت سے بار بار سوال کرتا جائے اور وہ اسے کچھ نہ کہے بلکہ بادشاہوں اور امراء سے تو ایک دفعہ سوال کرنا بھی مشکل ہوتا ہے اور وہ سوالات کو پسند ہی نہیں کرتے اور سوال کرنا اپنی شان کے خلاف اور بے ادبی جانتے ہیں اور اگر کوئی ان سے سوال کرے تو اس پر سخت غضب نازل کرتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں ہم رسول کریم ﷺ کو دیکھتے ہیں کہ باوجود ایک ملک کے