سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 161
سيرة النبي علي 161 جلد 1 عَنْ يَمِيْنِي نُوْرًا وَعَنْ يَسَارِكْ نُوْرًا وَفَوْقِى نُوْرًا وَتَحْتِى نُوْرًا وَأَمَا مِنْ نُوْرًا وَخَلْفِى نُورًا وَاجْعَلُ لِيْ نُورًا اے اللہ ! میری بینائی اور شنوائی کو نور سے منور کر کے یہ بھی کر کہ میرے دائیں بائیں، آگے پیچھے ، اوپر نیچے جہات ستہ میں نور ہی نور ہو جائے اور جن باتوں سے آنکھوں اور کانوں کے ذریعہ دل پر برا اثر پڑتا ہے وہی میرے اردگرد سے فنا ہو کر ان کی بجائے تقویٰ اور طہارت کے پیدا کرنے والے نظارے مجھے چاروں طرف سے گھیر لیں۔پھر اس خیال سے کہ پوشیدہ در پوشیدہ ذرائع سے بھی دل ملوث ہوتا ہے فرمایا کہ وَاجْعَلْ لِيْ نُوْرًا میرے لیے نور کے دروازے کھول دے، ظلمت سے میرا کچھ تعلق ہی نہ رہے ، نور ہی سے میرا واسطہ ہو۔اس دعا کو پڑھ کر ہر ایک تعصب سے کورا آدمی سمجھ سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ بدیوں سے کیسے متنفر تھے۔شفقت علی النفس بہت سے انسان اپنی حماقت سے بجائے فائدہ کے الٹا نقصان کر لیتے ہیں اور اپنے نزدیک جسے خوبی سمجھتے ہیں وہ دراصل برائی ہوتی ہے اور اس پر عامل ہو کر تکلیف اٹھاتے ہیں۔بہت سے لوگ دیکھے جاتے ہیں کہ وہ اپنے نفس کو خواہ مخواہ کی مشقت میں ڈال کر تکلیف دیتے ہیں اور اسے فخر سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا ایک ذریعہ جانتے ہیں۔اور اس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنا کوئی آسان امر نہیں۔پہلے انسان پوری طرح سے اپنے نفس کو مارے اور اپنے ہر فعل اور قول کو اس کی رضا کے مطابق بنائے۔اپنی خواہشات کو اس کے لیے قربان کر دے۔اپنی آرزوؤں کو اس کے منشا کے مقابلہ میں مٹا دے۔اپنے ارادوں کو چھوڑ دے۔اس کی خاطر ہر ایک دکھ اور تکلیف اٹھانے کو تیار ہو جائے۔اس کے مقابلہ میں کسی چیز کی خاک عظمت نہ سمجھے اور جس چیز کے قرب سے اُس سے دوری ہو اسے ترک کر دے۔اپنے اوقات کو ضائع ہونے سے بچائے تبھی انسان خدا تعالیٰ کے فضل کو حاصل کر سکتا ہے۔اور جب اس کا فضل نازل ہو تو