سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 160

سيرة النبي علي 160 جلد 1 الله غیر کا مال اٹھا لے۔اسی طرح اگر ایک جھوٹا جھوٹ بولتا ہے تو گو خلاف واقعہ کلمات اس کی زبان پر ہی جاری ہوتے ہیں لیکن نہیں کہہ سکتے کہ زبان نے جھوٹ بولا کیونکہ وہ دل کے اشارہ پر کام کرتی ہے اور اسے جس طرح اس کا حکم پہنچا اس نے کام کر دیا۔اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اَلا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ 62 جسم انسانی میں ایک لوتھڑا ہے کہ جب وہ درست ہو جائے سب جسم درست ہو جاتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے سب جسم بگڑ جاتا ہے۔خبردار ہو کر سنو کہ وہ دل ہے۔پس دل کے نیک ہونے سے جوارح سے بھی نیک اعمال ظاہر ہوتے ہیں اور اس کے خراب ہو جانے سے ہاتھ ، پاؤں ، آنکھیں ، کان اور زبان سب خراب ہو جاتے ہیں۔اسی وجہ سے آنحضرت علیہ نے اپنی دعا میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی ہے کہ الہی ! میرے دل میں نور بھر دے۔جب دل میں نور بھرا گیا تو پھر ظلمت کا گزر کیونکر ہوسکتا ہے اور گناہ ظلمت سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔جس طرح گناہ دل سے پیدا ہوتے ہیں اسی طرح دل کو خراب کرنے کے لیے کوئی بیرونی سامان ایسے پیدا ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے دل اپنی اصل حالت سے نکل جاتا ہے اس لیے رسول کریم علیہ نے دل میں نور بھرنے کی درخواست کے بعد دعا فرمائی کہ جن ذریعوں سے قلب انسانی بیرونی اشیاء سے متاثر ہوتا ہے اُن میں بھی نور ہی بھر دے یعنی آنکھوں اور کانوں کو نورانی کر دے۔میری آنکھیں کوئی ایسی بات نہ دیکھیں کہ جس کا دل پر خراب اثر پڑے۔نہ کان وہ باتیں سنیں جن سے دل بدی کی طرف مائل ہو۔پھر اس سے بڑھ کر آپ نے یہ سوچا کہ کان اور آنکھیں بھی تو آخر وہی سنتے اور دیکھتے ہیں جو اُن کے اردگرد ہوتا ہے۔اگر اردگر وظلمت کے سامان ہی نہ ہوں اور بدی کی تحریک اور میلان پیدا کرنے والے ذرائع ہی مفقود ہوں تو پھر انہوں نے دل پر کیا خراب اثر ڈالنا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اللَّهُمَّ اجْعَلُ