سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 157
سيرة النبي علي 157 جلد 1 اور آپ کے دل کے ہر گوشہ میں نور ایمان متمکن تھا اور وہ ثبوت آپ کی ایک دعا ہے جو آپ کے دلی جذبات کی مظہر ہے۔حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا کی روایت ہے کہ آپ صبح کی سنتوں کے بعد یہ دعا مانگتے اَللَّهُمَّ اجْعَلُ فِي قَلْبِيْ نُوْرًا وَفِي بَصَرِكْ نُوْرًا وَفِي سَمْعِيْ نُوْرًا وَعَنْ يَمِيْنِيْ نُوْرًا وَعَنْ يَسَارِي نُوْرًا وَفَوُقِيْ نُوْرًا وَتَحْتِيْ نُوْرًا وَأَمَا مِنْ نُوْرًا وَخَلْفِيْ نُوْرًا وَاجْعَلُ لِي نُورًا 61 یعنی اے اللہ ! میرے دل کو نور سے بھر دے اور میری آنکھوں کو نورانی کر دے اور میرے کانوں کو بھی نور سے بھر دے اور میری دائیں طرف بھی نور کر دے اور بائیں طرف بھی اور میرے اوپر بھی نور کر دے اور نیچے بھی نور کر دے۔اور نور کو میرے آگے بھی کر دے اور پیچھے بھی کر دے۔اور میرے لیے نور ہی نور کر دے۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو یہ دعا مانگتے ہوئے سننے کا اتفاق مجھے اس طرح ہوا کہ میں اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک دن سویا جو رسول کریم ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے تھیں اور میں نے رسول کریم ﷺ کو دیکھا کہ اس طرح دعا مانگتے تھے اور نماز پڑھتے تھے۔پس یہ دعا ایسے خلوت کے وقت کی ہے کہ جس وقت انسان اپنے خدا سے آزادی کے ساتھ اپنا حال دل عرض کرتا ہے۔اور اگر چہ خدا تعالیٰ پہلے ہی سے انسان کے خفیہ سے خفیہ خیالات کو جانتا ہے پھر بھی چونکہ فطرتِ انسانی اسے عرض حال پر مجبور کرتی ہے اس لیے بہتر سے بہتر وقت جس وقت انسان کی حقیقی خواہشات کا علم ہو سکتا ہے وہ وقت ہے کہ جب وہ سب دنیا سے علیحدہ ہو کر اپنے گھر میں اپنے رب سے عاجزانہ التجا کرتا ہے کہ میری فلاں فلاں خواہش کو پورا کر دیں یا فلاں فلاں انعام مجھ پر فرما دیں۔غرض کہ یہ دعا ایسے وقت کی ہے جب کہ خدا تعالیٰ کے سوا آپ کا محرم راز اور کوئی نہ تھا اور صرف ایک نابالغ بچہ اُس وقت پاس تھا اور وہ بھی اپنے آپ کو علیحدہ رکھ کر چپکے چپکے آپ کے اعمال و حرکات کا معائنہ کر رہا تھا۔اب اس دعا پر نظر ڈالو کہ