سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 156
سيرة النبي علي 156 جلد 1 اور بدخلقتی دکھانا بالکل قرین قیاس ہو سکتا ہے لیکن ان واقعات کی بناء پر بھی عبد اللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ آپ لَمْ يَكُنُ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِشًا نہ بدخلق تھے نہ بدگو تھے۔اگر کہو کہ ایک جماعت ایسی بھی تو ہوتی ہے جس کے اخلاق بجائے تکالیف کے خوشی کے ایام میں بگڑتے ہیں تو خوشی کی گھڑیاں بھی آپ نے دیکھی ہیں۔آپ خدا کے رسول اور اس کے پیارے تھے یہ کیونکر ہو سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو نا کام دنیا سے اٹھا لیتا۔وفات سے پہلے پہلے خدا تعالیٰ نے آپ کو اپنے دشمنوں پر غلبہ دے دیا اور دشمن جس تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا اُسی سرعت سے پیچھے ہٹنے لگا۔قیصر و کسرای تو بے شک آپ کی وفات کے بعد تباہ ہوئے اور آپ کے غلاموں کے ہاتھوں ان کا غرور ٹوٹا لیکن کفارِ عرب، جماعت منافقین، یہود ونصاری کے وہ قبائل جو عرب میں رہتے وہ تو آپ کے سامنے آپ کے ہاتھوں سے نہایت ذلت سے ٹھوڑیوں کے بل گرے اور سوائے اس کے کہ طلبگار عفو ہوں اور کچھ نہ بن پڑا۔اس بیکسی اور بے بسی کے بعد جس کا نقشہ پہلے کھینچ چکا ہوں بادشاہت کی کرسی پر آپ فروکش ہوئے اور سب دشمن پامال ہو گئے۔مگر باوجود ان فاتحانہ نظاروں کے ان ایام ترقی کی اُن ساعات بہجت و فرحت کے عبداللہ بن عمر و فر ماتے ہیں کہ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِشًا نبی کریم ہے نہ بداخلاق تھے نہ بدگو۔میں عبد اللہ بن عمرو کی شہادت سے بتا چکا ہوں کہ آنحضرت علی ایک پاک دعا کو بدی سے کیسی نفرت تھی اور بدی کرنا یا بدخلقی کا اظہار کرنا تو الگ رہا آپ بد کلامی اور بدگوئی تک سے محتر ز تھے اور باوجود ہر قسم کے سر وئیسر میں سے گزرنے کے کسی وقت اور کسی حال میں بھی آپ نے نیکی اور تقوی کو نہیں چھوڑا اور آپ کے منہ پر کوئی نازیبا لفظ بھی نہیں آیا جو ایک عظیم الشان معجزانہ طاقت کا ثبوت ہے جو آپ کے ہر کام میں اپنا جلوہ دکھا رہی تھی۔اب میں ایک اور ثبوت پیش کرتا ہوں کہ آپ بدی اور ظلمت سے سخت متنفر تھے