سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 2
سيرة النبي علي 2 جلد 1 کھلی دلیل ہے کہ ایک عرب فرقہ بنی ہاشم میں سے اُس وقت جبکہ ایک آدمی بھی اس کے ساتھ نہیں اٹھ کر دعویٰ کرتا ہے کہ خدا ایک ہے اور میں اس کا رسول ہوں۔اور خواہ کوئی بھی میری مخالفت کرے آخر کار فتح میرے ہی نام ہوگی۔خدا تعالیٰ کا دین تمام دنیا میں پھیل جائے گا اور یہ کعبہ جس میں بت پرستی کی جاتی ہے ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ اس میں واحد خدا کی پرستش کی جائے گی۔تمام دنیا اپنا ناخنوں تک زور لگا لے لیکن خدا تعالیٰ کی باتیں پوری ہو کر ہی رہیں گی۔وہ دعوی کرتا ہے کہ کوئی انسان مجھ کو مار نہیں سکتا۔میرا حافظ ایک بڑا زبردست خدا ہے جو آسمانوں اور زمینوں اور جو کچھ کہ ان میں ہے سب کا پیدا کرنے والا ہے۔اور وہ وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور پھر زندہ کرتا ہے۔وہ وہی ہے جو کہ کسی کو کچھ نفع پہنچا سکتا ہے یا ضرر دے سکتا ہے۔اور ایک آواز مجھ کو اس کی طرف سے آتی ہے کہ گلا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ خبر دار ان لوگوں کی پیروی مت کر جو تجھے نماز اور دوسرے نیک کاموں سے روکتے ہیں۔بلکہ اس واحد لاشریک کے سامنے اپنا سر جھکا دے اور اس کی فرمانبرداری کر اور قریب ہو جا۔اور اس پر اس کی قوم جو کہ بت پرست اور مشرک ہے اس کی مخالفت کرتی ہے، اس کے پیروؤں کو ہلاک کیا جاتا ہے، خود اس کو طرح طرح کی اذیتیں دی جاتی ہیں یہاں تک کہ اس سے اور اس کے پیروؤں سے بولنا تک منع اور حرام سمجھا جاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے ہاتھوں کوئی چیز فروخت کرنا سخت گناہ ہے، ان کی ذرہ بھر بھی مدد کرنے والا کسی سخت سزا کا مستوجب ہے۔لیکن وہی خدا جس کو کہ وہ لوگوں پر ظاہر کرنا چاہتا ہے باوجود پہروں کے اس کو راتوں رات مکہ سے مدینہ کی طرف نکال کر لے جاتا ہے اور کفار باوجود اس کا پیچھا کرنے کے اور اس کے سر پر پہنچ جانے کے اس کو مار نہیں سکتے۔اور آخر کار وہی شہر جس سے کہ وہ رات کو نکلتا ہے اور جہاں سے کہ اس کے پیرو نکالے جاتے ہیں اس کے قبضہ میں آتا ہے۔اور وہ جو وہاں سے اکیلا نکلا تھا جب اس میں داخل ہوتا ہے دس ہزار سپاہی جرار اس کے ساتھ ہوتا