سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 151
سيرة النبي علي 151 جلد 1 ہر کسے ناصح برائے دیگراں ہر ایک دوسروں کے لیے ناصح ہے اپنے نفس کا حال بھلائے ہوئے ہے۔پھر ایک شاعر کہتا ہے واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر می کنند چون بخلوت می روند آن کار دیگر می کنند یہ واعظ جو محراب و منبر پر جلوہ افروز ہو کر لوگوں کے لیے ناصح بنتے ہیں جب خلوت میں جاتے ہیں تو ان کے اعمال بالکل اور ہی ہوتے ہیں اور ان اعمال کا پتہ بھی نہیں چلتا جن کا وعظ وہ منبر پر سے کیا کرتے تھے۔اس وقت مسلمان علماء کو دیکھو۔قرآن شریف کو ہاتھ میں لے کر خشیت الہی کے وعظ بڑے زور سے کہتے ہیں لیکن خود خدا کا ڈر نہیں کرتے۔پادری انجیل سے یہ روایت لوگوں کو سناتے ہیں کہ دولتمند خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا 58 یا اگر کوئی تیری ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسری بھی پھیر دے 59 لیکن دولتمند پادری موجود ہیں۔پھر ان میں سے کتنے ہیں جو ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسری پھیر دینی تو در کنار دوسرے مذاہب کے بانیوں کی نسبت بدگوئی میں ابتدا سے ہی بچتے اور پر ہیز کرتے ہوں۔پنڈت دان اور پن کے متعلق طول طویل کھائیں پڑھ کر لوگوں کو اس طرف مائل کرتے ہیں مگر اپنے آپ کو کسی قسم کے دان پٹن سے بری سمجھتے ہیں۔غرضیکہ جب روزانہ زندگی کا مشاہدہ کیا جائے تو اکثر واعظ ایسے ہی ملتے ہیں کہ جو گل پند و نصائح کو دوسروں کے لیے واجب عمل قرار دیتے ہیں مگر اپنے نفوس کو بنی نوع انسان سے خارج کر لیتے ہیں اور ایسے بہت ہی کم ہیں کہ جن کا قول وفعل برابر ہو اور وہ لوگوں کو نصیحت کرتے وقت ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بھی ملامت کرتے جائیں بلکہ لوگوں کو کہنے سے پہلے اپنے نفس کی اصلاح کریں۔پس گو یہ بات بظاہر بالکل معمولی معلوم ہوتی ہے کہ واعظ تو بدیوں سے بچتے ہی ہوں گے لیکن دراصل یہ ایک نہایت مشکل اور کٹھن راستہ ہے جس پر چل کر بہت کم لوگ ہی منزل مقصود کو پہنچتے ہیں۔اور ابتدائے دنیا سے آج تک جس قدر واعظ ایسے گزرے