سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 141

سيرة النبي علي 141 جلد 1 غرضیکہ جس محبت اور شوق سے آپ ذکر الہی میں مشغول رہتے تھے اور ان مشاغل کے باوجود جو آپ کو دن کے وقت در پیش رہتے تھے اس کی نظیر دنیا میں اور کسی ہادی کی زندگی میں نہیں مل سکتی۔اول تو میں دعویٰ کرتا ہوں کہ اگر دنیا کے دیگر ہادیان کے اشغال کا آپ کے اشغال سے مقابلہ کیا جائے تو اُن کے اشغال ہی آپ کے اشغال کے مقابلہ میں بہت کم نکلیں گے لیکن اس فرق کو نظر انداز کر کے بھی ان کی زندگی میں ذکر الہی کی یہ کثرت نہ پائی جائے گی۔بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے احسانات کا مطالعہ جس غور سے رسول کریم علی نے فرمایا ہے اور کسی انسان نے نہیں کیا۔اسی لیے جس محبت سے آپ اپنے پیارے کا نام لیتے تھے اور کسی انسان نے نہیں لیا۔ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ کے محبین اور ذاکرین میں بڑے بڑے لوگ ہوئے ہیں لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ آپ جیسا ذاکر اور محب اور کوئی نہیں مل سکتا۔موت کے وقت بھی خدا ہی یاد تھا سوائے شاذ و نادر کے عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ انسان اپنی زندگی پر حریص ہوتا ہے حتیٰ کہ ڈاکٹروں نے فیصلہ کر دیا ہے کہ جو شخص خود کشی کرتا ہے وہ ضرور پاگل ہوتا ہے یا خود کشی کے وقت اسے جنون کا دورہ ہوتا ہے ورنہ عقل وخرد کی موجودگی میں انسان ایسا کام نہیں کرتا۔جب موت قریب ہو تو اُس وقت تو اکثر آدمی اپنے مشاغل کو یاد کر کے افسوس کرتے ہیں کہ اگر اور کچھ دن زندگی ہوتی تو فلاں کام بھی کر لیتے اور فلاں کام بھی کر لیتے۔جوانی میں اس قدر حرص نہیں ہوتی جس قدر بڑھاپے میں ہو جاتی ہے اور یہی خیال دامنگیر ہو جاتا ہے کہ اب بچوں کے بچے دیکھیں اور پھر اُن کی شادیاں دیکھیں۔اور جب موت قریب آتی ہے تو اور بھی توجہ ہو جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کا بستر مرگ دیکھا گیا ہے کہ حسرت و اندوہ کا مظہر اور رنج وغم کا مقام ہوتا ہے اور