سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 140
سيرة النبي علي 140 جلد 1 جھگڑے لوگوں میں ہوتے ان کا فیصلہ کرتے۔عمال کا انتظام، بیت المال کا انتظام، ملک کا انتظام، دین اسلام کا اجراء اور پھر جنگوں میں فوج کی کمان، بیویوں کے حقوق کا ایفاء، پھر گھر کے کام کاج میں شریک ہونا یہ سب کام آپ دن کے وقت کرتے اور ان کے بجالانے کے بعد بجائے اس کے کہ چُور ہو کر بستر پر جا پڑیں اور سورج کے نکلنے تک اس سے سر نہ اٹھا ئیں بار بار اٹھ کر بیٹھ جاتے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ،تحمید کرتے اور نصف رات کے گزرنے پر اٹھ کر وضو کرتے اور تن تنہا جب چاروں طرف خاموشی اور سناٹا چھایا ہوا ہوتا اپنے رب کے حضور میں نہایت عجز و نیاز سے کھڑے ہو جاتے اور تلاوتِ قرآن شریف کرتے۔اور اتنی اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے حتی کہ عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کھڑا ہو گیا تو اس قدر تکلیف ہوئی کہ قریب تھا کہ میں نماز توڑ کر بھاگ جاتا کیونکہ میرے قدم اب زیادہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتے تھے اور میری طاقت سے باہر تھا کہ زیادہ کھڑا رہ سکوں 51۔یہ بیان اُس شخص کا ہے جو نو جوان اور رسول کریم ﷺ سے عمر میں کہیں کم تھا جس سے سمجھ میں آ سکتا ہے کہ آپ کی ہمت اور جذبہ محبت ایسا تیز تھا کہ باوجود پیری کے اور دن بھر کام میں مشغول رہنے کے آپ عبادت میں اتنی اتنی دیر کھڑے رہتے کہ جوان اور پھر مضبوط جوان جن کے کام آپ کے کاموں کے مقابلہ میں پاسنگ بھی نہ تھے آپ کے ساتھ کھڑے نہ رہ سکے اور تھک کر رہ جاتے۔یہ عبادت کیوں تھی اور کس وجہ سے آپ یہ مشقت برداشت کرتے تھے؟ صرف اسی لیے کہ آپ ایک شکر گزار بندے تھے اور آپ کا دل خدا تعالیٰ کے احسانات کو دیکھ کر ہر وقت اس کے ذکر کرنے کی طرف مائل رہتا۔چنانچہ جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں جب آپ سے سوال کیا گیا کہ آپ اس قدر عبادت میں کیوں مشغول رہتے ہیں؟ تو آپ نے یہی جواب دیا کہ کیا میں خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟