سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 122
سيرة النبي علي 122 جلد 1 سے تعلق رکھتا تھا دنیاوی آلائشوں سے پاک اپنے بھیجنے والے کے پاس چلا گیا۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِک وَسَلَّمُ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيدٌ۔رسول کریم ﷺ کی نہایت پیاری بیٹی موجود تھیں اور اُن کی آگے اولاد تھی اور اولاد کی اولاد اپنی ہی اولاد ہوتی ہے مگر آپ نے نہ کوئی مال اپنی بیویوں کے لیے چھوڑا اور نہ اولاد کے لیے۔ہاں بعض لوگوں کو خیال ہوتا ہے کہ ہماری بیویاں اور اولا د خود دولتمند ہیں ہمیں ان کے گزارہ کی کچھ فکر نہیں۔مگر یہاں یہ معاملہ بھی نہ تھا۔آپ کی بیویوں کی کوئی ایسی جائیداد الگ موجود نہ تھی کہ جس سے وہ اپنا گزارہ کر سکیں۔نہ ہی آپ کی اولا د آسودہ حال تھی کہ جس سے آپ بے فکر ہوں۔ان کے پاس کوئی جائیداد، کوئی روپیہ، کوئی مال نہ تھا کہ جس پر دنیا سے بے فکر ہو جائیں ایسی صورت میں اگر آپ ان لوگوں کے لیے خود کوئی اندوختہ چھوڑ جاتے تو کسی شریعت، کسی قانونِ انسانیت کے خلاف نہ ہوتا اور دنیا میں کسی انسان کا حق نہ ہوتا کہ وہ آپ کے اس فعل پر اعتراض کرتا۔لیکن آپ اُن جذبات اور خیالات کے ماتحت کام نہیں کرتے تھے جو ایک معمولی آدمی کے دل میں موجزن ہوتے ہیں۔آپ کے محسوسات اور محرکات ہی اور تھے۔آپ نے خدا تعالیٰ کی قدرت اور طاقت کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تھا اور اس کے فضلوں کی وسعت کو جانتے تھے۔آپ کو یقین تھا کہ میں اپنے پیچھے اگر مال چھوڑ کر نہیں جاتا تو کچھ حرج نہیں میری وفات کے بعد میرے پسماندگان کا ایک نگران ہے جس پر کبھی موت نہیں آتی ، جو کبھی غافل نہیں ہوتا ، جو اپنے پیاروں کو ان کی مصیبتوں کے وقت کبھی نہیں چھوڑتا ، جو ان کی ہر ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تیار رہتا اور ضرورتوں کے پیدا ہونے سے پہلے ان کے پورا کر نے کے سامان کر دیتا ہے۔خدا تعالیٰ کے وسیع خزانوں کو دیکھتے ہوئے آپ اس بات کو ایک سیکنڈ کے لیے بھی پسند نہیں کر سکتے تھے کہ اپنے پسماندگان کے لیے خود کوئی سامان کر جائیں۔خدا پر