سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 114
سيرة النبي علي 114 جلد 1 ان سب اسباب کا پیدا کرنے والا ہے۔پس خالقِ اسباب کے خلاف اسباب کچھ نہیں کر سکتے۔یہ تو کل آپ کا ضائع نہیں گیا بلکہ خدا نے اسے پورا کیا اور سراقہ جو دوسو اونٹ کے لالچ میں آیا تھا آپ سے معافی مانگ کر واپس چلا گیا اور خدا نے اُس کے دل پر ایسا رعب ڈالا کہ اُس نے اپنی سلامتی اس میں سمجھی کہ خاموشی سے واپس چلا جائے بلکہ اس نے اور تعاقب کرنے والوں کو بھی واپس کو ٹا دیا۔صلى الله غار ثور کا واقعہ جب رسول کریم ﷺ کو کم ہوا کہ آپ بھی مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ کو جائیں تو آپ اور حضرت ابوبکر ایک رات کو مکہ سے نکل کر جبل ثور کی طرف چلے گئے۔یہ پہاڑ مکہ سے کوئی چھ سات میل پر واقع ہے۔اس پہاڑ کی چوٹی پر ایک غار ہے جس میں دو تین آدمی اچھی طرح آرام کر سکتے ہیں اور بیٹھ تو اس سے زیادہ سکتے ہیں۔جب کفار نے دیکھا کہ آپ اپنے گھر میں موجود نہیں ہیں، باوجود پہرہ کے خدا کے فضل سے دشمنوں کے شر سے صحیح و سالم نکل گئے ہیں اور دشمن با وجود کمال ہوشیاری اور احتیاط کے خائب و خاسر ہو گئے تو انہوں نے کوشش کی کہ تعاقب کر کے آپ کو گرفتار کر لیں اور اپنے غضب کی آگ آپ پر برسائیں اور فوراً ادھر اُدھر آدمی دوڑائے۔کچھ آدمی اپنے ساتھ ایک کھوجی لے کر چلے جس نے آپ کے قدموں کے نشانات کو معلوم کر کے جبل ثور کی طرف کا رخ کیا۔جب جبل ثور پر پہنچے تو اس نے بڑے زور سے اس بات کا اقرار کیا کہ یہ لوگ اس جگہ سے آگے نہیں گئے بلکہ پہاڑ ہی پر موجود ہیں۔کھوجی عام طور سے بڑے ہوشیار ہوتے ہیں اور گورنمنٹ کے محکمہ پولیس والے بھی ان سے بہت کچھ فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ طریق انسان کے دریافت کرنے کا ایک بہت پرانا طریق ہے خصوصاً ان ممالک میں جہاں جرائم کی کثرت ہو۔اس طریق سے بہت کچھ کام لینا پڑتا ہے اس لیے غیر مہذب ممالک میں اور ایسے ممالک میں کہ جہاں کوئی باقاعدہ حکومت نہ ہو اس فن کی بڑی قدر و قیمت ہوتی