سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 113

سيرة النبي علي 113 جلد 1 واقعہ نے اُس کے دل پر ایسا اثر کیا کہ وہ ہمیشہ اسے بیان کرتا تھا اور کہتا تھا کہ سَمِعْتُ قِرَاءَةَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لَا يَلْتَفِتُ وَأَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ الالتفات 38 یعنی میں گھوڑا دوڑاتے دوڑاتے رسول کریم ﷺ کے اس قدر نزدیک ہو گیا کہ میں رسول کریم ﷺ کے قرآن پڑھنے کی آواز سن رہا تھا اور میں نے دیکھا کہ رسول کریم ﷺے دائیں بائیں بالکل نہیں دیکھتے ہاں حضرت ابو بکر بار بار دیکھتے صلى الله جاتے تھے۔اللہ اللہ ! خدا تعالیٰ پر کیسا بھروسہ ہے۔دشمن گھوڑا دوڑا تا ہوا اس قدر نزدیک آ گیا ہے کہ آپ کی آواز اُس تک پہنچ سکتی ہے اور آپ تیر کی زد میں آگئے ہیں مگر آپ ہیں کہ گھبراہٹ کا محسوس کرنا تو الگ رہا قرآن شریف پڑھتے جاتے ہیں۔اُدھر حضرت ابوبکر بار بار دیکھتے جاتے ہیں کہ اب دشمن کس قدر نز دیک پہنچ گیا ہے۔کیا اس بھروسہ اور توکل کی کوئی اور نظیر بھی مل سکتی ہے؟ کیا کوئی انسان ہے جس نے اس خطرناک وقت میں ایسی بے تو جہی اور لا پرواہی کا اظہار کیا ہو؟ اگر آپ کو دنیاوی اسباب کے استعمال کا خیال بھی ہوتا تو کم سے کم اتنا ضرور ہونا چاہیے تھا کہ آپ اُس وقت یا تو سراقہ پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے یا وہاں سے تیز نکل جانے کی کوشش کرتے لیکن آپ نے ان دونوں باتوں میں سے ایک بھی نہیں اختیار کی۔نہ تو آپ تیز قدم ہوئے اور نہ ہی آپ نے یہ ارادہ کیا کہ کسی طرح سراقہ کو مار دیں۔بلکہ نہایت اطمینان کے ساتھ بغیر اظہارِ خوف و ہراس اپنی پہلی رفتار پر قرآن شریف پڑھتے ہوئے چلے گئے۔وہ کونسی چیز تھی جس نے اُس وقت آپ کے دل کو ایسا مضبوط کر دیا ؟ کونسی طاقت تھی جس نے آپ کے حوصلہ کو ایسا بلند کر دیا ؟ کونسی روح تھی جس نے آپ کے اندر اس قسم کی غیر معمولی زندگی پیدا کر دی؟ یہ خدا پر توکل کے کرشمے تھے۔اس پر بھروسہ کے نتائج تھے۔آپ جانتے تھے کہ ظاہری اسباب میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔دنیا کی طاقتیں مجھے ہلاک نہیں کر سکتیں کیونکہ آسمان پر ایک خدا ہے جو مجھے دیکھ رہا ہے جو