سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 103
سيرة النبي علي 103 جلد 1 کرتے ہیں۔جب میں نماز میں ہوتا تو مجھ کو دیکھتے اور جب میں آپ کو دیکھتا تو آپ منہ پھیر لیتے۔جب اسی طرح ایک مدت گزری اور لوگوں کی روگردانی دوبھر ہو گئی تو میں چلا اور ابو قتادہ اپنے چچا زاد بھائی کے باغ کی دیوار پر چڑھا۔اُس سے مجھ کو بہت محبت تھی۔میں نے اُس کو سلام کیا تو خدا کی قسم اُس نے سلام کا جواب تک نہ دیا۔میں نے کہا ابو قتادہ ! تجھ کو خدا کی قسم تو مجھ کو اللہ اور اس کے رسول کا ہوا خواہ سمجھتا ہے (یا نہیں) جب بھی اُس نے جواب نہ دیا۔میں نے پھر قسم دے کر دوبارہ یہی کہا لیکن جواب ندارد۔پھر تیسری بار قسم دے کر یہی کہا تو اُس نے یہ کہا کہ اللہ اور رسول خوب جانتے ہیں۔بس اُس وقت تو (مجھ سے رہا نہ گیا ) میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور پیٹھ موڑ کر دیوار پر چڑھ کر وہاں سے چل دیا۔میں ایک بار مدینہ کے بازار میں جا رہا تھا اتنے میں ملک شام کا ایک (نصرانی ) کسان ملا جو مدینہ میں اناج بیچنے لایا تھا وہ کہہ رہا تھا لوگو ! کعب بن مالک کا بتلاؤ۔لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا۔اس نے غسان کے بادشاہ کا (جو نصرانی تھا) ایک خط مجھ کو دیا۔مضمون یہ تھا مجھ کو یہ خبر پہنچی ہے کہ تمہارے پیغمبر صاحب نے تم پر ستم کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے تم کو ایسا ذلیل نہیں بنایا ہے نہ بیکار ( تم تو کام کے آدمی ہو )۔تم ہم لوگوں سے آن کر مل جاؤ۔ہم تمہاری خاطر مدارات بخوبی کریں گے۔میں نے جب یہ خط پڑھا تو (اپنے دل میں کہنے لگا ) یہ ایک دوسری بلا ہوئی۔میں نے وہ خط لے کر آگ کے تنور میں جھونک دیا۔ابھی پچاس راتوں میں سے چالیس راتیں گزری تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام لانے والا ( خزیمہ بن ثابت ) میرے پاس آیا۔کہنے لگا آنحضرت ﷺ کا یہ حکم ہے تم اپنی جورو ( عمیرہ بنت جبیر ) سے بھی الگ رہو۔میں نے پوچھا کیا اس کو طلاق دے دوں یا کیسا کروں؟ اس نے کہا نہیں اس سے الگ رہو صحبت وغیرہ نہ کرو۔میرے دونوں ساتھیوں کو بھی یہی حکم کیا۔آخر میں نے اپنی جورو سے کہہ دیا نیک بخت! تُو اپنے کنبے والوں میں چلی جا۔وہیں رہ جب تک اللہ میرا کچھ فیصلہ نہ کرے (وہ چلی