سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 102
سيرة النبي علي 102 جلد 1 گئے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بہانہ کیوں نہ کر دیا۔اگر تُو بھی کوئی بہانہ کرتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا تیرے قصور کے لیے کافی ہو جاتی۔وہ برابر مجھ کو لعنت ملامت کرتے رہے۔قسم خدا کی اُن کی باتوں سے پھر میرے دل میں آیا کہ آنحضرت ﷺ کے پاس لوٹ کر چلوں اور اپنی اگلی بات ( گناہ کے اقرار ) کو جھٹلا کر کوئی بہانہ نکالوں۔میں نے اُن سے پوچھا اچھا اور بھی کوئی ہے جس نے میری طرح قصور کا اقرار کیا ہو؟ انہوں نے کہا ہاں دو اور بھی ہیں۔انہوں نے بھی تیری طرح گناہ کا اقرار کیا ہے۔اُن سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا ہے جو تجھ سے فرمایا ہے۔میں نے پوچھا وہ دو شخص کون ہیں؟ انہوں نے کہا مرارہ بن ربیع عمری اور ہلال بن امیہ واقعی۔انہوں نے ایسے دو نیک شخصوں کا بیان کیا جو بدر کی لڑائی میں شریک ہو چکے تھے اور جن کے ساتھ رہنا مجھ کو اچھا معلوم۔ہوا۔خیر جب انہوں نے ان دو شخصوں کا نام بھی لیا ( تو مجھ کو تسلی ہوئی ) میں چل دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مسلمانوں کو منع کر دیا خاص کر ہم تینوں آدمیوں سے کوئی بات نہ کرے اور دوسرے لوگ جو پیچھے رہ گئے تھے (جنہوں نے جھوٹے بہانے کیسے تھے ) اُن کے لیے یہ حکم نہیں دیا۔اب لوگوں نے ہم سے پر ہیز شروع کیا ( کوئی بات تک نہ کرتا ) بالکل کورے ہو گئے (جیسے کوئی آشنائی ہی نہ تھی ) ایسے ہی پچاس راتیں (اسی پریشان حالی میں ) گزریں۔میرے دونوں ساتھی ( مرارة اور ہلال) تو روتے پیٹتے اپنے گھروں میں بیٹھ رہے اور میں جوان مضبوط آدمی تھا تو مصیبت پر صبر کر کے) باہر نکلتا۔نماز کی جماعت میں شریک ہوتا۔بازاروں میں گھومتا رہتا مگر کوئی شخص مجھ سے بات نہ کرتا۔میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی آتا۔آپ نماز پڑھ کر اپنی جگہ پر بیٹھے ہوتے۔میں آپ کو سلام کرتا پھر مجھے شبہ رہتا آپ نے اپنے (مبارک) ہونٹ ہلا کر مجھ کو سلام کا جواب بھی دیا یا نہیں۔پھر میں آپ کے قریب کھڑے ہو کر نماز پڑھتا رہتا اور دزدیدہ نظر سے آپ کو دیکھتا آپ کیا